تُو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ
عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ
اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بُری نظر
اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ
کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ رُوپ دے
دل کے اُجاڑ باغ میں تازہ گُلاب ڈھونڈ
تُو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ
عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ
اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بُری نظر
اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ
کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ رُوپ دے
دل کے اُجاڑ باغ میں تازہ گُلاب ڈھونڈ
اُس کی یادوں سے لے کے منظُوری
بعد مُدت کے نیند کی پوری
وصل ہے اپنی ذات کی قُربت
ہجر ہے اپنے آپ سے دُوری
روشنی کر، دِیا جلا، لیکن
دھیان میں رکھ ہوا کی مخموری
ہِجر کی بھیگی ہوئی رات اُداسی اور میں
آج پھر روئے ہیں برسات اداسی اور میں
ہو کے مجبور کیا اس کو حوالے اس کے
ایسے آئے ہیں مِرے ہات اداسی اور میں
چند آنسو مِری آنکھوں سے نکل آتے ہیں
جب بھی کرتے ہیں تِری بات اداسی اور میں
تِرا عِشق اور ہِجر آلام دو تھے
محبت میں اک دل پہ کُہرام دو تھے
تِری آس کا تھا یہ عالم کہ شب بھر
میں تنہا تھا کمرے میں اور جام دو تھے
اُلجھ ہی گیا میں خریداری کرتے
دُکانوں میں ہر چیز کے دام دو تھے