اس نے یہ فاصلہ اس واسطے رکھا ہو گا
پاس آ کر مرے بیٹھے گا تو چرچا ہو گا
آج پھر اس نے مجھے یاد کیا ہے شاید
دل نے یوں ہی تو نہیں شور مچایا ہو گا
دیکھنا لوگ محبت کی مثالیں دیں گے
نام آئے گا مِرا ذکر تمہارا ہو گا
اس نے یہ فاصلہ اس واسطے رکھا ہو گا
پاس آ کر مرے بیٹھے گا تو چرچا ہو گا
آج پھر اس نے مجھے یاد کیا ہے شاید
دل نے یوں ہی تو نہیں شور مچایا ہو گا
دیکھنا لوگ محبت کی مثالیں دیں گے
نام آئے گا مِرا ذکر تمہارا ہو گا
اسے تم سے محبت ہے غلط فہمی میں مت رہنا
یہ بس دل کی شرارت ہے غلط فہمی میں مت رہنا
تمہی کو دیکھ کر وہ مسکراتا ہے تو حیرت کیا
اسے ہنسنے کی عادت ہے غلط فہمی میں مت رہنا
ہوئے برباد تو اب آہ و زاری کر رہے ہو تم
کہا بھی تھا سیاست ہے غلط فہمی میں مت رہنا
کسک دل کی مٹانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کسی کا غم بھلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
کسی کو چاہ کر اپنا بنانا ٹھیک ہے لیکن
محبت آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
تمہیں پانے کی خواہش میں ہوا احساس یہ مجھ کو
مقدر آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
گرد جم جائے تو شیشہ نہیں دیکھا جاتا
یعنی تصویر کو دھندلا نہیں دیکھا جاتا
تشنگی آ تجھے دریا کے حوالے کر دوں
تجھ کو اس حال میں پیاسا نہیں دیکھا جاتا
تم مِرا نام و نسب پوچھ رہے ہو سب سے
عشق ہو جائے تو شجرہ نہیں دیکھا جاتا
مِرے دشمن کو حیرانی بہت ہے
مجھے آخر کیوں آسانی بہت ہے
سمجھ لیتا ہے اپنا ہر کسی کو
مِرے دل میں یہ نادانی بہت ہے
چلو اب چاند پر دنیا بسائیں
زمیں والوں پہ نگرانی بہت ہے