حق کی خاطر بولو گے، مر جاؤ گے
کوئی راز بھی کھولو گے، مر جاؤ گے
صدیوں سے ٹھہرے نفرت کے جوہڑ میں
پیار محبت گھولو گے، مر جاؤ گے
چاہے گھر سے پانی پی کے نکلو گے
تھوڑا سا بھی ڈولو گے، مر جاؤ گے
ذکر تمہارا رہ جائے گا قصوں میں
جب جذبوں کو رولو گے، مر جاؤ گے
میرے دیس کے حاکم کا یہ کہنا ہے
میرے آگے بولو گے، مر جاؤ گے
آصف جی انیائے کی اس بستی میں
جس دن پورا تولو گے مر جاؤ گے
یاسر رضا آصف
No comments:
Post a Comment