Monday, 27 July 2026

کب سے پھرا رہا ہے جنوں کو بکو ہمیں

 کب سے پھرا رہا ہے جنوں کُو بہ کُو ہمیں

کر لو کبھی خدا کے لیے رُوبرُو ہمیں

بُجھتا ہوا چراغ ہے سُورج کے سامنے

لے آئی ہے کہاں پہ رہِ آرزُو ہمیں

کرتے ہیں اک سراب سے باتیں ہم آج کل

زمزم کی ریگزار میں ہے جُستجُو ہمیں

ڈُوبے ہیں کیوں انا کے سمندر میں سرگراں

ہستی کی مستعار ملی آبجُو ہمیں

صبحِ ازل جو آپ ہوئے ہم سے ہمکلام

یاد آ رہی ہے آج وہی گُفتگُو ہمیں

پھینکا تھا جو کسی کی طرف ہم نے ایک دن

پتھر لگا ہے آ کے وہی ہُو بہُو ہمیں

کمزور ہم ہوئے ہیں کہ بچے بڑے ہوئے

دیتے ہیں وہ جواب ابھی دُو بدُو ہمیں

ہونے لگا ہے آج ہدایت نشہ ہرن

کرنے لگا ہے عشق جو بے آبرُو ہمیں


ہدایت اللہ

No comments:

Post a Comment