صبحِ طرب کو کون پکارے ہم کو ہے غم کی شام بہت
پہروں پہروں جب دل تڑپے، ملتا ہے آرام بہت
صبحِ وصل اور صبحِ مسرت سب کے لیے کب ہوتی ہے
ہم سے غم کے ماروں کو ہے مے خانے کی شام بہت
زخم ملے اور خنجر بھی کچھ خار و سنگ و نشتر بھی
ہم نے یارو شہرِ وفا میں پائے ہیں انعام بہت