Showing posts with label پیام فتحپوری. Show all posts
Showing posts with label پیام فتحپوری. Show all posts

Thursday, 25 May 2023

صبح طرب کو کون پکارے ہم کو ہے غم کی شام بہت

 صبحِ طرب کو کون پکارے ہم کو ہے غم کی شام بہت

پہروں پہروں جب دل تڑپے، ملتا ہے آرام بہت 

صبحِ وصل اور صبحِ مسرت سب کے لیے کب ہوتی ہے

ہم سے غم کے ماروں کو ہے مے خانے کی شام بہت 

زخم ملے اور خنجر بھی کچھ خار و سنگ و نشتر بھی

ہم نے یارو شہرِ وفا میں پائے ہیں انعام بہت 

Saturday, 22 August 2020

جو تبسموں سے ہو گل فشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے

جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے 
ہمیں شہریار حیات تھے، ہمیں زندگی کو ترس گئے 
یہ عجیب صبح بہار ہے، کوئی زندگی کی کرن نہیں 
ہمیں خالقِ مہ و مہر ہیں، ہمیں روشنی کو ترس گئے
یہ چمن ہے کیسا چمن جہاں تہی دامنی ہی نصیب ہے
یہ بہار کیسی بہار ہے؟، کہ کلی کلی کو ترس گئے

Sunday, 12 November 2017

کبھی نغمہ غم آرزو کبھی زندگی کی پکار ہم

کبھی نغمۂ غمِ آرزو کبھی زندگی کی پکار ہم 
کبھی خاک کوچۂ یار ہم کبھی شہریارِ بہار ہم
کبھی چل پڑے تِری راہ میں تو حدِ جنوں سے گزر گئے 
تِرے انتظار میں ہو گئے کبھی نقش رہگزار ہم
ہمیں کشتگان حیات سے ہیں جنون عشق کی عظمتیں 
کبھی ہنس پڑے تہِ تیغ ہم کبھی جھوم اٹھے سرِ دار ہم

کہاں سے آ گیا کہاں یہ شام بھی کہاں ہوئی

کہاں سے آ گیا کہاں، یہ شام بھی کہاں ہوئی 
نہ ہم نفس نہ ہم زباں، یہ شام بھی کہاں ہوئی 
بجھی نظر، بجھے قدم، نہ راہبر، نہ ہمسفر 
نہ رہگزر نہ کارواں، یہ شام بھی کہاں ہوئی 
نہ شمعِ دل نہ شمعِ رُخ، نجومِ شب نہ ماہِ شب 
نگاہ و دل دھواں دھواں، یہ شام بھی کہاں ہوئی 

Thursday, 10 December 2015

کیا یونہی حریف رسن و دار ہوئے ہیں

کیا یونہی حریفِ رسن و دار ہوئے ہیں
دیوانہ ہوئے، تب کہیں ہشیار ہوئے ہیں
ہستی کو نکھارا ہے مِری آتشِ غم نے
شعلوں پہ جو سوئے ہیں تو بیدار ہوئے ہیں
موقوف نہیں زندہ دلی صحنِ چمن پر
ہم دشت و بیاباں میں بھی گلبار ہوئے ہیں

انصاف کے قانون کا کیا خوب چلن ہے

انصاف کے قانون کا کیا خوب چلن ہے
اس دور میں جینے کی سزا دار و رسن ہے
افلاس کے مارے ہوئے انساں ہیں کہ لاشیں
ہر لاش پہ ارمانوں کے سائے کا کفن ہے
یہ جان کے ہر جورِ زمانہ ہے گورا
شاید غمِ دوراں تِرے ماتھے کی شکن ہے