جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے
ہمیں شہریار حیات تھے، ہمیں زندگی کو ترس گئے
یہ عجیب صبح بہار ہے، کوئی زندگی کی کرن نہیں
ہمیں خالقِ مہ و مہر ہیں، ہمیں روشنی کو ترس گئے
یہ چمن ہے کیسا چمن جہاں تہی دامنی ہی نصیب ہے
نہ کرم نہ کوئی عتاب ہے، کوئی اس ادا کا جواب ہے
کبھی دوستی کو ترس گئے، کبھی دشمنی کو ترس گئے
وہی منزلوں سے بھٹک گئے نہ جنوں کے ساتھ جو چل سکے
جو فریبِ ہوش میں آ گئے، رہِ آگہی کو ترس گئے
ہے عجیب نصیب بھی عشق کا، نہ وفا ملی نہ جفا ملی
تِرے التفات کی کیا خبر، تیری بے رخی کو ترس گئے
میں پیام کافرِ عشق ہوں، میری گمرہی بھی ہے بندگی
کہ فداۓ کعبہ و دَیر بھی مِری کافری کو ترس گئے
پیام فتح پوری
پیام فتحپوری
No comments:
Post a Comment