Saturday, 22 August 2020

جو تبسموں سے ہو گل فشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے

جو تبسموں سے ہو گلفشاں وہی لب ہنسی کو ترس گئے 
ہمیں شہریار حیات تھے، ہمیں زندگی کو ترس گئے 
یہ عجیب صبح بہار ہے، کوئی زندگی کی کرن نہیں 
ہمیں خالقِ مہ و مہر ہیں، ہمیں روشنی کو ترس گئے
یہ چمن ہے کیسا چمن جہاں تہی دامنی ہی نصیب ہے
یہ بہار کیسی بہار ہے؟، کہ کلی کلی کو ترس گئے
نہ کرم نہ کوئی عتاب ہے، کوئی اس ادا کا جواب ہے
کبھی دوستی کو ترس گئے، کبھی دشمنی کو ترس گئے
وہی منزلوں سے بھٹک گئے نہ جنوں کے ساتھ جو چل سکے
جو فریبِ ہوش میں آ گئے، رہِ آگہی کو ترس گئے
ہے عجیب نصیب بھی عشق کا، نہ وفا ملی نہ جفا ملی
تِرے التفات کی کیا خبر، تیری بے رخی کو ترس گئے
میں پیام کافرِ عشق ہوں، میری گمرہی بھی ہے بندگی
کہ فداۓ کعبہ و دَیر بھی مِری کافری کو ترس گئے

پیام فتح پوری
پیام فتحپوری

No comments:

Post a Comment