جب سے ہوئے ہیں ان کے طلبگار دوستو
کچھ زندگی سے ہو گیا ہے پیار دوستو
جی چاہتا ہے پوچھو کیا اس کو بھی پیار ہے
ڈر ہے کہیں نہ کر دے وہ انکار دوستو
کیا یہ ضروری ہے کہ لب ہی بولتے رہیں
آنکھوں سے بھی تو ہوتا ہے اظہار دوستو
جب سے ہوئے ہیں ان کے طلبگار دوستو
کچھ زندگی سے ہو گیا ہے پیار دوستو
جی چاہتا ہے پوچھو کیا اس کو بھی پیار ہے
ڈر ہے کہیں نہ کر دے وہ انکار دوستو
کیا یہ ضروری ہے کہ لب ہی بولتے رہیں
آنکھوں سے بھی تو ہوتا ہے اظہار دوستو
لمحۂ فکریہ
گھٹن عجب ہے دلوں میں اپنے
کہ نقش سارے ہی مٹ گئے ہیں
چاہتوں کے، صحبتوں کے
تمام نغمے بکھر گئے ہیں
خلوص پیکر جو لوگ سارے تھے
ڈھے گئے ہیں
میں اپنی ذات میں تنہا
میں اپنی ذات میں تنہا
سبھی ہیں دوست میرے پر
نہیں ہے چارہ گر کوئی
میں اپنی ذات میں تنہا
کسے دیکھوں، کسے ڈھونڈوں
یہاں ہر سمت ویرانی
پیار موسم نہیں ہے
جو گزر جائے تو
لوٹ آئے گا
یہ تو ایسی ہوا ہے
جو کسی خاص لمحے میں
کسی کو مسحور کرتی ہے
میرے اندر شور بہت ہے
شاید کوئی اور بہت ہے
سناٹوں میں گونج ہے کیسی
اس چپ میں بھی شور بہت ہے
آس امید کو باندھیں کیسے
ٹوٹی دل کی ڈور بہت ہے