یہ بات ذہن میں رکھ روشنی میں آتے ہوئے
ہزار راتیں لگیں ہم کو دن بناتے ہوئے
پہنچ رہا تھا مِرے وہم سے بھی آگے کوئی
سو شرم آنے لگی اس کو آزماتے ہوئے
اسے خبر تھی کہ منزل بہت قریب ہے اب
وہ رو پڑا تھا مجھے نیند سے جگاتے ہوئے
یہ بات ذہن میں رکھ روشنی میں آتے ہوئے
ہزار راتیں لگیں ہم کو دن بناتے ہوئے
پہنچ رہا تھا مِرے وہم سے بھی آگے کوئی
سو شرم آنے لگی اس کو آزماتے ہوئے
اسے خبر تھی کہ منزل بہت قریب ہے اب
وہ رو پڑا تھا مجھے نیند سے جگاتے ہوئے
میں ڈر رہا ہوں اسے گھر یہ بیچنا نہ پڑے
یہ سارا ملبہ مجھے ہی سنبھالنا نہ پڑے
اضافی جان کے رکھ لے تُو اپنے پاس مجھے
کوئی نہ ہو تو تجھے مجھ کو ڈھونڈنا نہ پڑے
کچھ اس لیے میں تمہارا خیال رکھتا ہوں
پرائی چیز کو حسرت سے دیکھنا نہ پڑے
ایسا کسی کے ساتھ کبھی سانحہ نہ ہو
گھر کے مکيں کو گھر ميں کوئی جانتا نہ ہو
وه خوش ہے جا رہا ہے نیا شہر دیکھنے
ميں ڈر رہا ہوں راه ميں کہيں حادثہ نہ ہو
تھا اس کی دستیابی میں یہ وسوسہ مجھے
اتنا حسیں نظارہ کہیں جا بجا نہ ہو
ہوائے تیز کو جیسے دِیا قبول کرے
وہ خوش مزاج مجھے غمزدہ قبول کرے
اُسے بتانا کہ آنکھوں کا نُور جانے لگا
خُدارا اب تو مِرا دیکھنا قبول کرے
کریں گے بحث مسافت پہ بعد میں، پہلے
دُعا کرو کہ ہمیں راستہ قبول کرے
جرم ثابت تھا پر اقرار نہیں کرتا تھا
خوفِ انکار سے اظہار نہیں کرتا تھا
جنگ پر عین اسی وقت اداسی چھائی
کوئی نزدیک تھا جب، وار نہیں کرتا تھا
میں دلیلوں سے اسے جیت تو سکتا تھا مگر
وہ سمجھ دار تھا تکرار نہیں کرتا تھا
تم مومن و مشرک کے سوالات نہ کرنا
محفل ہے فقیروں کی غلط بات نہ کرنا
ہر حکم بجا یار کا سر آنکھوں پہ لینا
وہ پانچ بجے کا کہے، پھر سات نہ کرنا
مشکل ہو بھلے، وقت گزر جائے گا اک دن
اپنوں کے بھروسے سے کبھی ہاتھ نہ کرنا