Showing posts with label صداقت نیازی. Show all posts
Showing posts with label صداقت نیازی. Show all posts

Friday, 29 October 2021

یہ بات ذہن میں رکھ روشنی میں آتے ہوئے

 یہ بات ذہن میں رکھ روشنی میں آتے ہوئے

ہزار راتیں لگیں ہم کو دن بناتے ہوئے

پہنچ رہا تھا مِرے وہم سے بھی آگے کوئی

سو شرم آنے لگی اس کو آزماتے ہوئے

اسے خبر تھی کہ منزل بہت قریب ہے اب

وہ رو پڑا تھا مجھے نیند سے جگاتے ہوئے

Monday, 11 October 2021

میں ڈر رہا ہوں اسے گھر یہ بیچنا نہ پڑے

 میں ڈر رہا ہوں اسے گھر یہ بیچنا نہ پڑے

یہ سارا ملبہ مجھے ہی سنبھالنا نہ پڑے

اضافی جان کے رکھ لے تُو اپنے پاس مجھے

کوئی نہ ہو تو تجھے مجھ کو ڈھونڈنا نہ پڑے

کچھ اس لیے میں تمہارا خیال رکھتا ہوں

پرائی چیز کو حسرت سے دیکھنا نہ پڑے

Friday, 8 October 2021

ایسا کسی کے ساتھ کبھی سانحہ نہ ہو

ایسا کسی کے ساتھ کبھی سانحہ نہ ہو

گھر کے مکيں کو گھر ميں کوئی جانتا نہ ہو 

وه خوش ہے جا رہا ہے نیا شہر دیکھنے 

ميں ڈر رہا ہوں راه ميں کہيں حادثہ نہ ہو 

تھا اس کی دستیابی میں یہ وسوسہ مجھے 

اتنا حسیں نظارہ کہیں جا بجا نہ ہو

Sunday, 26 September 2021

ہوائے تیز کو جیسے دِیا قبول کرے

 ہوائے تیز کو جیسے دِیا قبول کرے

وہ خوش مزاج مجھے غمزدہ قبول کرے

اُسے بتانا کہ آنکھوں کا نُور جانے لگا

خُدارا اب تو مِرا دیکھنا قبول کرے

کریں گے بحث مسافت پہ بعد میں، پہلے

دُعا کرو کہ ہمیں راستہ قبول کرے

Wednesday, 1 September 2021

جرم ثابت تھا پر اقرار نہیں کرتا تھا

 جرم ثابت تھا پر اقرار نہیں کرتا تھا

خوفِ انکار سے اظہار نہیں کرتا تھا

جنگ پر عین اسی وقت اداسی چھائی

کوئی نزدیک تھا جب، وار نہیں کرتا تھا

میں دلیلوں سے اسے جیت تو سکتا تھا مگر

وہ سمجھ دار تھا تکرار نہیں کرتا تھا

Thursday, 26 November 2020

تم مومن و مشرک کے سوالات نہ کرنا

 تم مومن و مشرک کے سوالات نہ کرنا

محفل ہے فقیروں کی غلط بات نہ کرنا

ہر حکم بجا یار کا سر آنکھوں پہ لینا

وہ پانچ بجے کا کہے، پھر سات نہ کرنا

مشکل ہو بھلے، وقت گزر جائے گا اک دن

اپنوں کے بھروسے سے کبھی ہاتھ نہ کرنا