عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آنکھوں کا نور دل کی ضیا آپ ہی تو ہیں
ہر تیرگی میں راہنما آپﷺ ہی تو ہیں
تکرار و تثنیہ کو نہیں جس میں شائبہ
وہ ایک شاہکار خدا آپﷺ ہی تو ہیں
جن سے ہر ایک مرحلہ کرب میں ہمیں
درس ثبات و صبر ملا آپﷺ ہی تو ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آنکھوں کا نور دل کی ضیا آپ ہی تو ہیں
ہر تیرگی میں راہنما آپﷺ ہی تو ہیں
تکرار و تثنیہ کو نہیں جس میں شائبہ
وہ ایک شاہکار خدا آپﷺ ہی تو ہیں
جن سے ہر ایک مرحلہ کرب میں ہمیں
درس ثبات و صبر ملا آپﷺ ہی تو ہیں
بڑھ کر امکانات تحسیں سے ان کی ہر ادا
کون کر سکتا ہے حق نعت پیغمبرﷺ ادا
اللہ اللہ مدحت خیر الوریٰ کے باب میں
خود بخود ہوتا ہے مضمون دل مضطر ادا
یاس آغشتہ بشر کی جان میں جان آ گئی
دیکھ کر خلق محمدﷺ کی رواں پرور ادا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل کا درد لبوں تک آئے تو میں نعت کہوں
ہر دھڑکن مصرع بن جائے تو میں نعت کہوں
دل کے مطلع پر ہو صبحِ عرفان و ایقان
چھٹ جائیں تشکیک کے سائے تو میں نعت کہوں
حسنِ عمل کے کھیت ہرے ہوں خیر پھلے پھولے
دامانِ رحمت لہرائے تو میں نعت کہوں
کشاد ذہن و دل و گوش کی ضرورت ہے
یہ زندگی ہے یہاں ہوش کی ضرورت ہے
سنائی دے گی یقیناً ضمیر کی آواز
مخاطبین سبک گوش کی ضرورت ہے
اب احتیاج نہیں سرو قامتوں کی مجھے
مجھے تو اب کسی ہمدوش کی ضرورت ہے
وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا
بشر بھی خیر نہ ہو گا مگر خدا بھی نہ تھا
کہا شعور نے اس وقت حرف قم مجھ سے
کہ لا شعور جگانے سے جاگتا بھی نہ تھا
عجب تھی ساعتِ آغازِ گلستاں بندی
نویدِ گل بھی نہ تھی مژدۂ صبا بھی نہ تھا
خزاں کے دوش پہ ہے فصل گل کا رخت ابھی
کہ برگ و بار سے خالی ہے ہر درخت ابھی
ابھی غموں سے عبارت ہے سر نوشت بشر
کہ آسمان پرے ہے زمین سخت ابھی
سمجھ شعاع بریدہ نہ صرف جگنو کو
کرن کرن کا جگر ہو گا لخت لخت ابھی
آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر
آج ہمارا گھر لگتا ہے کیسا اجلا اجلا گھر
اپنے آئیں سر آنکھوں پر غیر کی یہ بیٹھک نہ بنے
گھر آسیب کا بن جائے گا ورنہ ہنستا بستا گھر
گھر کو جب ہم جھاڑیں پوچھیں رہتے ہیں محتاط بہت
گرد آلود نہیں ہونے دیتے ہم ہمسائے کا گھر
چل بسا جعفر بلوچ
موت کیسے زندگی کو آ کے لیتی ہے دبوچ
ہو غلط یا رب! سُنا ہے چل بسا جعفر بلوچ
مُنفرد وہ شخص تھا اور مُنفرد اس کی تھی سوچ
چل بسا جعفر بلوچ
اس میں کیا شک ہے، وہ شاعر تھا نہایت ارجمند
کنزِ مخفی کے گُہر، اور انجمِ فکرِ بلند
اگرچہ آہ سرِ شام بھی ضروری ہے
دل ستم زدہ آرام بھی ضروری ہے
ستم شعار کی تفریح سامعہ کے لیے
خروشِ مرغِ تہِ دام بھی ضروری ہے
ضیائے کرمکِ شب تاب ہی نہیں کافی
ستارۂ سحر انجام بھی ضروری ہے
کتنی سزا ملی ہے مجھے عرضِ حال پر
پہرے لگے ہوئے ہیں مِری بول چال پر
کہتے ہیں لوگ جوششِ فصلِ بہار ہے
پھولوں کا جب مزاج نہ ہو اعتدال پر
تو اپنی سسکیوں کو دبا اپنے اشک پونچھ
اے دوست چھوڑ دے تو مجھے میرے حال پر