Showing posts with label جعفر بلوچ. Show all posts
Showing posts with label جعفر بلوچ. Show all posts

Friday, 9 May 2025

آنکھوں کا نور دل کی ضیا آپ ہی تو ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آنکھوں کا نور دل کی ضیا آپ ہی تو ہیں

ہر تیرگی میں راہنما آپﷺ ہی تو ہیں

تکرار و تثنیہ کو نہیں جس میں شائبہ

وہ ایک شاہکار خدا آپﷺ ہی تو ہیں

جن سے ہر ایک مرحلہ کرب میں ہمیں

درس ثبات و صبر ملا آپﷺ ہی تو ہیں

Friday, 18 April 2025

بڑھ کر امکانات تحسیں سے ان کی ہر ادا

 بڑھ کر امکانات تحسیں سے ان کی ہر ادا

کون کر سکتا ہے حق نعت پیغمبرﷺ ادا

اللہ اللہ مدحت خیر الوریٰ کے باب میں

خود بخود ہوتا ہے مضمون دل مضطر ادا

یاس آغشتہ بشر کی جان میں جان آ گئی

دیکھ کر خلق محمدﷺ کی رواں پرور ادا

Monday, 8 January 2024

دل کا درد لبوں تک آئے تو میں نعت کہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل کا درد لبوں تک آئے تو میں نعت کہوں

ہر دھڑکن مصرع بن جائے تو میں نعت کہوں

دل کے مطلع پر ہو صبحِ عرفان و ایقان

چھٹ جائیں تشکیک کے سائے تو میں نعت کہوں

حسنِ عمل کے کھیت ہرے ہوں خیر پھلے پھولے

دامانِ رحمت لہرائے تو میں نعت کہوں

Sunday, 19 February 2023

کشاد ذہن و دل و گوش کی ضرورت ہے

 کشاد ذہن و دل و گوش کی ضرورت ہے 

یہ زندگی ہے یہاں ہوش کی ضرورت ہے

سنائی دے گی یقیناً ضمیر کی آواز 

مخاطبین سبک گوش کی ضرورت ہے

اب احتیاج نہیں سرو‌ قامتوں کی مجھے 

مجھے تو اب کسی ہمدوش کی ضرورت ہے

Sunday, 10 April 2022

وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا

 وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا 

بشر بھی خیر نہ ہو گا مگر خدا بھی نہ تھا 

کہا شعور نے اس وقت حرف قم مجھ سے 

کہ لا شعور جگانے سے جاگتا بھی نہ تھا 

عجب تھی ساعتِ آغازِ گلستاں بندی 

نویدِ گل بھی نہ تھی مژدۂ صبا بھی نہ تھا 

Friday, 8 April 2022

خزاں کے دوش پہ ہے فصل گل کا رخت ابھی

 خزاں کے دوش پہ ہے فصل گل کا رخت ابھی

کہ برگ و بار سے خالی ہے ہر درخت ابھی

ابھی غموں سے عبارت ہے سر نوشت بشر

کہ آسمان پرے ہے زمین سخت ابھی

سمجھ شعاع بریدہ نہ صرف جگنو کو

کرن کرن کا جگر ہو گا لخت لخت ابھی

Thursday, 7 April 2022

آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر

 آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر 

آج ہمارا گھر لگتا ہے کیسا اجلا اجلا گھر 

اپنے آئیں سر آنکھوں پر غیر کی یہ بیٹھک نہ بنے 

گھر آسیب کا بن جائے گا ورنہ ہنستا بستا گھر 

گھر کو جب ہم جھاڑیں پوچھیں رہتے ہیں محتاط بہت 

گرد آلود نہیں ہونے دیتے ہم ہمسائے کا گھر 

Monday, 28 March 2022

موت کیسے زندگی کو آ کے لیتی ہے دبوچ

چل بسا جعفر بلوچ


موت کیسے زندگی کو آ کے لیتی ہے دبوچ

ہو غلط یا رب! سُنا ہے چل بسا جعفر بلوچ

مُنفرد وہ شخص تھا اور مُنفرد اس کی تھی سوچ

چل بسا جعفر بلوچ


اس میں کیا شک ہے، وہ شاعر تھا نہایت ارجمند

کنزِ مخفی کے گُہر، اور انجمِ فکرِ بلند

Wednesday, 14 July 2021

اگرچہ آہ سر شام بھی ضروری ہے

 اگرچہ آہ سرِ شام بھی ضروری ہے

دل ستم زدہ آرام بھی ضروری ہے

ستم شعار کی تفریح سامعہ کے لیے

خروشِ مرغِ تہِ دام بھی ضروری ہے

ضیائے کرمکِ شب تاب ہی نہیں کافی

ستارۂ سحر انجام بھی ضروری ہے

Wednesday, 27 January 2021

کتنی سزا ملی ہے مجھے عرض حال پر

 کتنی سزا ملی ہے مجھے عرضِ حال پر 

پہرے لگے ہوئے ہیں مِری بول چال پر 

کہتے ہیں لوگ جوششِ فصلِ بہار ہے 

پھولوں کا جب مزاج نہ ہو اعتدال پر 

تو اپنی سسکیوں کو دبا اپنے اشک پونچھ

اے دوست چھوڑ دے تو مجھے میرے حال پر