Thursday, 7 April 2022

آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر

 آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر 

آج ہمارا گھر لگتا ہے کیسا اجلا اجلا گھر 

اپنے آئیں سر آنکھوں پر غیر کی یہ بیٹھک نہ بنے 

گھر آسیب کا بن جائے گا ورنہ ہنستا بستا گھر 

گھر کو جب ہم جھاڑیں پوچھیں رہتے ہیں محتاط بہت 

گرد آلود نہیں ہونے دیتے ہم ہمسائے کا گھر 

تم نے کڑیاں جھیلیں اور غیروں کے گھر آباد کیے 

راہ تمہاری تکتا ہے آبائی سونا سونا گھر 

جو آرام ہے اپنے گھر میں اور کہاں مل سکتا ہے 

ٹوٹا پھوٹا بھی ہو تو بھی اپنا گھر ہے اپنا گھر 

اک انجانے ڈر نے نیند اچک لی سب کی آنکھوں سے 

کتنی ہی راتوں سے مسلسل بے آرام ہے گھر کا گھر 

میری روح بروگن رہ رہ کر چلاتی رہتی ہے 

میرا گھر میرا پیارا گھر میرا پیارا پیارا گھر 

آوارہ گردی کے سبب وہ دن بھر تو مطعون رہا 

جب سورج مغرب میں ڈوبا جعفرؔ بھی جا پہنچا گھر 


جعفر بلوچ

No comments:

Post a Comment