Showing posts with label عدنان نصیر. Show all posts
Showing posts with label عدنان نصیر. Show all posts

Sunday, 12 March 2023

آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے

 آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے

سینہ کوبی کی تو دنیا میں اجازت ہے مجھے

اشک پتھر ہوئے جاتے ہیں مِری آنکھوں میں

اے مِرے دوست! دلاسے کی ضرورت ہے مجھے 

سوز لہجے میں در آیا ہے تو آنکھوں میں نمی

اب میں اعلان کروں کیا کہ محبت ہے مجھے

Sunday, 11 September 2022

آتے جاتے کو آنا پڑتا ہے

 آتے جاتے کو آنا پڑتا ہے

راہ میں آستانہ پڑتا ہے

تان لی ہے کماں غزالوں پر

دیکھیے کب نشانہ پڑتا ہے

فاصلہ کچھ نہیں ہے دونوں میں

بیچ میں بس زمانہ پڑتا ہے

Thursday, 18 August 2022

جانے کیا سوچ کر بنایا تھا

 جانے کیا سوچ کر بنایا تھا؟

اس نے شانوں پہ سر بنایا تھا

اپنی ہمت سے قد نکالا ہے

اس نے تو مختصر بنایا تھا

اب کنارے پہ داد چاہتے ہیں

وہ جنہوں نے بھنور بنایا تھا

Wednesday, 17 August 2022

رنج سارے ٹھکانے لگ گئے ہیں

 رنج سارے ٹھکانے لگ گئے ہیں

پھول تحفے میں آنے لگ گئے ہیں

میں نے تعریف کی ہے ہونٹوں کی

آپ تو منہ بنانے لگ گئے ہیں

آپ کے ساتھ ہوں زمانے سے

آپ بھی آزمانے لگ گئے ہیں

Monday, 15 August 2022

میں چاہتا ہوں کچھ اس طرح واسطہ رکھوں

 میں چاہتا ہوں کچھ اس طرح واسطہ رکھوں

بٹھاؤں دل میں اسے، اپنی بھی جگہ رکھوں

وہ کشتیوں کو جلانے کی بات کرتا ہے

میں چاہتا ہوں پلٹنے کا راستہ رکھوں

میں چاہتا ہوں بڑھے کچھ مِلن کی سرشاری

میں چاہتا ہوں زیادہ نہ رابطہ رکھوں

Thursday, 10 December 2020

ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں

 ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں

جس طرح راستے پھر رہے ہیں

اس طرف دنیا ہے گاڑی موڑو

اس طرف حادثے پھر رہے ہیں

بھول جاتے ہیں وہ بات کہہ کر

ہم یہاں سوچتے پھر رہے ہیں

Thursday, 12 November 2020

کیا اذیت ہے کہ بیکار پڑے ہیں گھر میں

 کیا اذیت ہے کہ بے کار پڑے ہیں گھر میں

اس پہ تنہائی کے انبار پڑے ہیں گھر میں

میرے ثروت کی کتابیں تری یادوں کی گھٹن

خود کشی کے کئی اوزار پڑے ہیں گھر میں

اک تِری یاد کا رونا ہو تو رو بھی لوں میں

اور سو طرح کے آزار پڑے ہیں گھر میں