آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے
سینہ کوبی کی تو دنیا میں اجازت ہے مجھے
اشک پتھر ہوئے جاتے ہیں مِری آنکھوں میں
اے مِرے دوست! دلاسے کی ضرورت ہے مجھے
سوز لہجے میں در آیا ہے تو آنکھوں میں نمی
اب میں اعلان کروں کیا کہ محبت ہے مجھے
آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے
سینہ کوبی کی تو دنیا میں اجازت ہے مجھے
اشک پتھر ہوئے جاتے ہیں مِری آنکھوں میں
اے مِرے دوست! دلاسے کی ضرورت ہے مجھے
سوز لہجے میں در آیا ہے تو آنکھوں میں نمی
اب میں اعلان کروں کیا کہ محبت ہے مجھے
آتے جاتے کو آنا پڑتا ہے
راہ میں آستانہ پڑتا ہے
تان لی ہے کماں غزالوں پر
دیکھیے کب نشانہ پڑتا ہے
فاصلہ کچھ نہیں ہے دونوں میں
بیچ میں بس زمانہ پڑتا ہے
جانے کیا سوچ کر بنایا تھا؟
اس نے شانوں پہ سر بنایا تھا
اپنی ہمت سے قد نکالا ہے
اس نے تو مختصر بنایا تھا
اب کنارے پہ داد چاہتے ہیں
وہ جنہوں نے بھنور بنایا تھا
رنج سارے ٹھکانے لگ گئے ہیں
پھول تحفے میں آنے لگ گئے ہیں
میں نے تعریف کی ہے ہونٹوں کی
آپ تو منہ بنانے لگ گئے ہیں
آپ کے ساتھ ہوں زمانے سے
آپ بھی آزمانے لگ گئے ہیں
میں چاہتا ہوں کچھ اس طرح واسطہ رکھوں
بٹھاؤں دل میں اسے، اپنی بھی جگہ رکھوں
وہ کشتیوں کو جلانے کی بات کرتا ہے
میں چاہتا ہوں پلٹنے کا راستہ رکھوں
میں چاہتا ہوں بڑھے کچھ مِلن کی سرشاری
میں چاہتا ہوں زیادہ نہ رابطہ رکھوں
ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں
جس طرح راستے پھر رہے ہیں
اس طرف دنیا ہے گاڑی موڑو
اس طرف حادثے پھر رہے ہیں
بھول جاتے ہیں وہ بات کہہ کر
ہم یہاں سوچتے پھر رہے ہیں
کیا اذیت ہے کہ بے کار پڑے ہیں گھر میں
اس پہ تنہائی کے انبار پڑے ہیں گھر میں
میرے ثروت کی کتابیں تری یادوں کی گھٹن
خود کشی کے کئی اوزار پڑے ہیں گھر میں
اک تِری یاد کا رونا ہو تو رو بھی لوں میں
اور سو طرح کے آزار پڑے ہیں گھر میں