Sunday, 12 March 2023

آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے

 آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے

سینہ کوبی کی تو دنیا میں اجازت ہے مجھے

اشک پتھر ہوئے جاتے ہیں مِری آنکھوں میں

اے مِرے دوست! دلاسے کی ضرورت ہے مجھے 

سوز لہجے میں در آیا ہے تو آنکھوں میں نمی

اب میں اعلان کروں کیا کہ محبت ہے مجھے

کچھ تو رکھی ہے تعلق میں کمی تُو نے بھی

تیرے ہوتے ہوئے اوروں کی ضرورت ہے مجھے

اب اگر لوٹ کے آؤ تو بہت چاہوں گا

چھٹیاں ہو گئی ہیں ان دنوں فُرصت ہے مجھے


عدنان نصیر

No comments:

Post a Comment