آپ کہیے یہاں اور کوئی سہولت ہے مجھے
سینہ کوبی کی تو دنیا میں اجازت ہے مجھے
اشک پتھر ہوئے جاتے ہیں مِری آنکھوں میں
اے مِرے دوست! دلاسے کی ضرورت ہے مجھے
سوز لہجے میں در آیا ہے تو آنکھوں میں نمی
اب میں اعلان کروں کیا کہ محبت ہے مجھے
کچھ تو رکھی ہے تعلق میں کمی تُو نے بھی
تیرے ہوتے ہوئے اوروں کی ضرورت ہے مجھے
اب اگر لوٹ کے آؤ تو بہت چاہوں گا
چھٹیاں ہو گئی ہیں ان دنوں فُرصت ہے مجھے
عدنان نصیر
No comments:
Post a Comment