کھنڈرات میں بھٹکتی صدا ہُوں تِرے بغیر
کیسے تجھے بتاؤں میں کیا ہوں ترے بغیر
کیسے ادا کروں تِری یادوں کا شکریہ
جِن کے سہارے زندہ رہا ہوں ترے بغیر
مدت سے ہجرِ یار میں جو خود ہے جل بجھا
میں راہ میں پڑا وہ دِیا 🪔 ہوں ترے بغیر
کھنڈرات میں بھٹکتی صدا ہُوں تِرے بغیر
کیسے تجھے بتاؤں میں کیا ہوں ترے بغیر
کیسے ادا کروں تِری یادوں کا شکریہ
جِن کے سہارے زندہ رہا ہوں ترے بغیر
مدت سے ہجرِ یار میں جو خود ہے جل بجھا
میں راہ میں پڑا وہ دِیا 🪔 ہوں ترے بغیر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وفورِ شوق کی محفل ہے میری تنہائی
"بڑے وقار کی حامل ہے میری تنہائی"
مدینہ جب بھی نظر آئے، آئے خلوت میں
مِری ضمانتِ منزِل ہے میری تنہائی
حضورؐ! آپ کو سوچوں جو پہروں خلوت میں
تو زندگی کا مِری دل ہے میری تنہائی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گھوم آیا اگرچہ ہے سب افلاک تصور
چومے ہے مدینے کی مگر خاک تصور
جس پر کروں نقش آپؐ کے نعلینِ مقدس
لاؤں میں کہاں سے بھلا وہ پاک تصور
پہنچو جو مدینے میں تو رہنا ہے مؤدب
اس شہر میں ہونا نہیں بے باک تصور
کُوزے میں خواہ لائے کوئی بحر و بر کی بات
سُنتا یہاں پہ کون ہے آشفتہ سر کی بات
دل کی، زباں پہ آئی تو محسوس یُوں ہُوا
بازار میں ہو آ گئی جس طرح گھر کی بات
بہکا نہ پائے گا ہمیں لفظوں کا ہیر پھیر
پڑھنے لگی ہے اب تو نظر ہی نظر کی بات