Showing posts with label ثاقب علوی. Show all posts
Showing posts with label ثاقب علوی. Show all posts

Tuesday, 1 April 2025

کھنڈرات میں بھٹکتی صدا ہوں ترے بغیر

 کھنڈرات میں بھٹکتی صدا ہُوں تِرے بغیر

کیسے تجھے بتاؤں میں کیا ہوں ترے بغیر

کیسے ادا کروں تِری یادوں کا شکریہ

جِن کے سہارے زندہ رہا ہوں ترے بغیر

مدت سے ہجرِ یار میں جو خود ہے جل بجھا

میں راہ میں پڑا وہ دِیا 🪔 ہوں ترے بغیر

Sunday, 19 May 2024

وفورِ شوق کی محفل ہے میری تنہائی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وفورِ شوق کی محفل ہے میری تنہائی

"بڑے وقار کی حامل ہے میری تنہائی"

مدینہ جب بھی نظر آئے، آئے خلوت میں

مِری ضمانتِ منزِل ہے میری تنہائی

حضورؐ! آپ کو سوچوں جو پہروں خلوت میں

تو زندگی کا مِری دل ہے میری تنہائی

Saturday, 18 May 2024

گھوم آیا اگرچہ ہے سب افلاک تصور

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


گھوم آیا اگرچہ ہے سب افلاک تصور

چومے ہے مدینے کی مگر خاک تصور

جس پر کروں نقش آپؐ کے نعلینِ مقدس

لاؤں میں کہاں سے بھلا وہ پاک تصور

پہنچو جو مدینے میں تو رہنا ہے مؤدب

اس شہر میں ہونا نہیں بے باک تصور

Friday, 17 May 2024

سنتا یہاں پہ کون ہے آشفتہ سر کی بات

 کُوزے میں خواہ لائے کوئی بحر و بر کی بات

سُنتا یہاں پہ کون ہے آشفتہ سر کی بات

دل کی، زباں پہ آئی تو محسوس یُوں ہُوا

بازار میں ہو آ گئی جس طرح گھر کی بات

بہکا نہ پائے گا ہمیں لفظوں کا ہیر پھیر

پڑھنے لگی ہے اب تو نظر ہی نظر کی بات