سمندر کے پیچھے سمندر
سمندر کی ساری کہانی
وہی اک تسلسل کا دھارا
وہی جھاگ، آبی پرندے، ہواؤں کے طوفاں
وہی درد کا اک سفر ہے
کہیں آنے والے زمانوں کے نادیدہ منظر
سمندر کے پیچھے سمندر
سمندر کی ساری کہانی
وہی اک تسلسل کا دھارا
وہی جھاگ، آبی پرندے، ہواؤں کے طوفاں
وہی درد کا اک سفر ہے
کہیں آنے والے زمانوں کے نادیدہ منظر
جلتی دوپہروں میں اک سایہ سا زیر غور ہے
بجھتی آنکھوں میں کوئی چہرہ سا زیر غور ہے
اب کے میں زندہ یا پھر سے مر جاؤں سہیل
فیصلہ سب ہو چکا تھوڑا سا زیر غور ہے
اتنی ویرانی میں روشن ہو تِری تصویر کب
اس سلگتے جسم میں شعلہ سا زیر غور ہے
جلتا تھا رات ہی سے دل یاسمن تمام
رخصت تھی صبح تک یہ بہار چمن تمام
جذبہ یہ رشک کا ہے اے عشاق کش مجھے
بازار سے خرید لیے ہیں کفن تمام
دل جل رہا ہے وحشتِ یادِ غزال سے
روشن ہیں اس چراغ سے دشت و دمن تمام
واپسی کا گیت
سفر، مسلسل
نجانے ہم دائروں کی گردش ہیں
یا کسی سیدھ کا ادھورا سا مرحلہ ہے
یہی خبر ہے
بس اک سفر ہے
ہری شاخ
کبھی جو ذرا سی خبر ملی
مِری غفلتوں میں بکھر گئی
مِرے ساتھ بے خبری رہی
مجھے ایسا رنگ جنوں ملا
مِرے سامنے وہ مِری رہی
وہ بہارِ عشق تھی جاوِداں
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں
شب دریچوں سے پیار کرتی ہو
روشنی روشنی پہ مرتی ہو
در بدر خاک ہو خزاؤں کی
ہر طرف بات ہو بہاروں کی
ٹُوٹے لفظوں سے ہی اظہار کرے کوئی تو
ہم یہ خود چاہتے ہیں، ہم پہ مَرے کوئی تو
ٹھان رکھی ہے کہ دے دیں گے اسے آبِ حیات
دل کے چشمے سے کبھی ڈول بھرے کوئی تو
دیکھ لے جو مِرے سینے میں سُلگتا ہوا دُکھ
اور اسے کر دے مِرے دل سے پرے کوئی تو