Showing posts with label احمد سہیل. Show all posts
Showing posts with label احمد سہیل. Show all posts

Tuesday, 16 November 2021

سمندر کی ساری کہانی

 سمندر کے پیچھے سمندر


سمندر کی ساری کہانی

وہی اک تسلسل کا دھارا

وہی جھاگ، آبی پرندے، ہواؤں کے طوفاں

وہی درد کا اک سفر ہے

کہیں آنے والے زمانوں کے نادیدہ منظر

Friday, 24 September 2021

جلتی دوپہروں میں اک سایہ سا زیر غور ہے

 جلتی دوپہروں میں اک سایہ سا زیر غور ہے 

بجھتی آنکھوں میں کوئی چہرہ سا زیر غور ہے

اب کے میں زندہ یا پھر سے مر جاؤں سہیل

فیصلہ سب ہو چکا تھوڑا سا زیر غور ہے

اتنی ویرانی میں روشن ہو تِری تصویر کب

اس سلگتے جسم میں شعلہ سا زیر غور ہے

Saturday, 4 September 2021

جلتا تھا رات ہی سے دل یاسمن تمام

 جلتا تھا رات ہی سے دل یاسمن تمام

رخصت تھی صبح تک یہ بہار چمن تمام

جذبہ یہ رشک کا ہے اے عشاق کش مجھے

بازار سے خرید لیے ہیں کفن تمام

دل جل رہا ہے وحشتِ یادِ غزال سے

روشن ہیں اس چراغ سے دشت و دمن تمام

Tuesday, 31 August 2021

سفر مسلسل نجانے ہم دائروں کی گردش ہیں

 واپسی کا گیت


سفر، مسلسل

نجانے ہم دائروں کی گردش ہیں

یا کسی سیدھ کا ادھورا سا مرحلہ ہے

یہی خبر ہے

بس اک سفر ہے

Saturday, 28 August 2021

مرے دل کی شاخ ہری رہی

 ہری شاخ


کبھی جو ذرا سی خبر ملی

مِری غفلتوں میں بکھر گئی

مِرے ساتھ بے خبری رہی

مجھے ایسا رنگ جنوں ملا

مِرے سامنے وہ مِری رہی

وہ بہارِ عشق تھی جاوِداں

Thursday, 6 May 2021

ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں

 ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں


ایسی بستی میں لے چلو کہ جہاں

شب دریچوں سے پیار کرتی ہو

روشنی روشنی پہ مرتی ہو

در بدر خاک ہو خزاؤں کی

ہر طرف بات ہو بہاروں کی

Wednesday, 21 April 2021

ٹوٹے لفظوں سے ہی اظہار کرے کوئی تو

 ٹُوٹے لفظوں سے ہی اظہار کرے کوئی تو

ہم یہ خود چاہتے ہیں، ہم پہ مَرے کوئی تو

ٹھان رکھی ہے کہ دے دیں گے اسے آبِ حیات

دل کے چشمے سے کبھی ڈول بھرے کوئی تو

دیکھ لے جو مِرے سینے میں سُلگتا ہوا دُکھ

اور اسے کر دے مِرے دل سے پرے کوئی تو