دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لیے
سو گئیں شاید ہوائیں گود میں بادل لیے
آ رہا ہے چپ کے تالابوں میں پتھر پھینکتا
اک جلوس کُودکاں کو ساتھ اک پاگل لیے
ان اندھیری بستیوں میں رکھ نہ دروازہ کھلا
کون آتا ہے یہاں اپنائی کی مشعل لیے
دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لیے
سو گئیں شاید ہوائیں گود میں بادل لیے
آ رہا ہے چپ کے تالابوں میں پتھر پھینکتا
اک جلوس کُودکاں کو ساتھ اک پاگل لیے
ان اندھیری بستیوں میں رکھ نہ دروازہ کھلا
کون آتا ہے یہاں اپنائی کی مشعل لیے
بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں
کسی دستک کا لرزتا ہوا جھونکا بھی نہیں
تیرگی اوڑھ کے آئی ہے گھٹا کی چادر
اور فانوس کوئی آہ کا جلتا بھی نہیں
کل مِرے سائے میں سستائی تھی صدیوں کی تھکن
آج وہ پیڑ ہوں جس پر کوئی پتا بھی نہیں
وہ خواب خواب فضا وہ نگر کسی کا تھا
مسافرت تو مِری تھی سفر کسی کا تھا
نظر گریز رہیں اس طرح مِری آنکھیں
کہ جیسے میرا نہیں میرا گھر کسی کا تھا
لہو تو میرا چھپا تھا کلی کی مُٹھی میں
کِھلے گُلاب پہ حقِ نظر کسی کا تھا
صحرا کا مندر
دل ایک تپتے ہوئے صحرا کا مندر ہے
جہاں آشاؤں کی لاکھوں
مقید دیوداسی تتلیوں کا رقص جاری ہے
تھرکتی تتلیوں کے جسم تپتے ہیں
گھٹا کی راہ تکتے ہیں
جاگتی آنکھوں میں کیسے خواب در آنے لگے
راستے میری طرف لے کر سفر آنے لگے
دور تک اڑتی ابابیلوں کی ڈاریں دیکھ کر
اونگھتے پنچھی کے بھی جنبش میں پر آنے لگے
کائناتِ شب میں چشمِ جستجو بھٹکی پھری
روشنی کے منطقے آخر نظر آنے لگے