Showing posts with label پرویز بزمی. Show all posts
Showing posts with label پرویز بزمی. Show all posts

Friday, 11 March 2022

دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لئے

 دھوپ میں بیٹھے ہیں بچے ہاتھ میں چھاگل لیے

سو گئیں شاید ہوائیں گود میں بادل لیے

آ رہا ہے چپ کے تالابوں میں پتھر پھینکتا

اک جلوس کُودکاں کو ساتھ اک پاگل لیے

ان اندھیری بستیوں میں رکھ نہ دروازہ کھلا

کون آتا ہے یہاں اپنائی کی مشعل لیے

Tuesday, 7 December 2021

بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں

 بند کمرے میں ہوں اور کوئی دریچا بھی نہیں

کسی دستک کا لرزتا ہوا جھونکا بھی نہیں

تیرگی اوڑھ کے آئی ہے گھٹا کی چادر

اور فانوس کوئی آہ کا جلتا بھی نہیں

کل مِرے سائے میں سستائی تھی صدیوں کی تھکن

آج وہ پیڑ ہوں جس پر کوئی پتا بھی نہیں

Monday, 6 December 2021

وہ خواب خواب فضا وہ نگر کسی کا تھا

 وہ خواب خواب فضا وہ نگر کسی کا تھا

مسافرت تو مِری تھی سفر کسی کا تھا

نظر گریز رہیں اس طرح مِری آنکھیں

کہ جیسے میرا نہیں میرا گھر کسی کا تھا

لہو تو میرا چھپا تھا کلی کی مُٹھی میں

کِھلے گُلاب پہ حقِ نظر کسی کا تھا

Sunday, 5 December 2021

دل ایک تپتے ہوئے صحرا کا مندر ہے

 صحرا کا مندر


دل ایک تپتے ہوئے صحرا کا مندر ہے

جہاں آشاؤں کی لاکھوں

مقید دیوداسی تتلیوں کا رقص جاری ہے

تھرکتی تتلیوں کے جسم تپتے ہیں

گھٹا کی راہ تکتے ہیں

Monday, 28 June 2021

جاگتی آنکھوں میں کیسے خواب در آنے لگے

 جاگتی آنکھوں میں کیسے خواب در آنے لگے

راستے میری طرف لے کر سفر آنے لگے

دور تک اڑتی ابابیلوں کی ڈاریں دیکھ کر

اونگھتے پنچھی کے بھی جنبش میں پر آنے لگے

کائناتِ شب میں چشمِ جستجو بھٹکی پھری

روشنی کے منطقے آخر نظر آنے لگے