Showing posts with label آزاد حسین. Show all posts
Showing posts with label آزاد حسین. Show all posts

Tuesday, 17 October 2023

سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے

زعفرانی غزل


 سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے 

مِرا یہ آخری سکّہ، نہ خرچ ہو جائے

مجھے یہ شوق،، مِرا کم سخن کہے کچھ تو

اسے یہ فکر کہ جملہ نہ خرچ ہو جائے 

گلاب سُوکھ نہ جائے کتاب میں رکھا 

پسِ نقاب ہی چہرہ نہ خرچ ہو جائے 

Friday, 29 September 2023

بڑھے گا نفع ہمارا خسارے جائیں گے

 بڑھے گا نفع ہمارا، خسارے جائیں گے

پڑے ہوئے ہیں کبھی تو پکارے جائیں گے

یہ آدھی رات میں دیوار پھاندنے والے

تمہاری دید کے چکر میں مارے جائیں گے

 سڑک پہ بھاگتی گاڑی سے بغض کیا شے ہے

پتہ چلے گا تمہیں جب تمہارے جائیں گے

Saturday, 15 April 2023

جو بائیں ہاتھ کی انگلی میں اک انگوٹھی ہے

 جو بائیں ہاتھ کی انگلی میں اک انگوٹھی ہے

ہمارے سر پہ قیامت کے جیسے ٹوٹی ہے

دِلا! دِلا! اے مِرے خوش گمان ہوتے دِلا

تجھے کہا تھا وہ دنیا ہے اور جھوٹی ہے

تمام رات مجھے جاگنا پڑے گا اب

تِرے خیال کی آہٹ سے نیند ٹوٹی ہے

Wednesday, 4 January 2023

مل کر یار بنا دیتے ہیں

 مل کر یار بنا دیتے ہیں

دن تہوار بنا دیتے ہیں

ہوتے ہیں کچھ کام ایسے بھی

جو بے کار بنا دیتے ہیں

جادوگر ہیں دنیا والے

دو کو چار بنا دیتے ہیں

Friday, 4 November 2022

مری اداسی مرے مسائل سے متصل ہے

 کسی فرائیڈ،، نہ کارلائل سے متصل ہے

مِری اداسی مِرے مسائل سے متصل ہے

پرائی بیٹی کی خودکشی پر فسردہ لوگو

یہاں پہ لڑکی کا بَر وسائل سے متصل ہے

یہ دھڑکنوں کا گراف اوپر تلے رہے گا

مریض کا دل کسی کی پائل سے متصل ہے

Monday, 2 May 2022

آئنہ صاف رہے، ربط میں تشکیک نہ ہو

 آئینہ صاف رہے،ربط میں تشکیک نہ ہو

اس لیے روز تجھے کہتے ہیں نزدیک نہ ہو

ہے اگر عشق تو پھر عشق لگے، رحم نہیں

اتنی مقدار تو دے،، وصل رہے، بھیک نہ ہو

مجھے تم ایسے اجاڑو، کہ کئی نسلوں تک

آنے والوں کو مِرے عشق کی تحریک نہ ہو

Thursday, 14 April 2022

راستے ہیں بڑے سنسان کہاں جاتا ہے

راستے ہیں بڑے سنسان کہاں جاتا ہے

رات گہری ہے مِری مان کہاں جاتا ہے

ریل کے شور مچاتے ہوئے انجن کے طفیل

رونے والوں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے

تیرے مصلوب گداگر نے یہیں رہنا ہے

پھٹ بھی جائے تو، گریبان کہاں جاتا ہے

Saturday, 26 March 2022

تمام رنج و الم کو وہ پیارا لگ گیا ہے

 تمام رنج و الم کو وہ پیارا لگ گیا ہے 

جسے بھی عشق ہوا ہے بے چارا لگ گیا ہے

زیاں کے ذیل میں کچھ سانس رہ گئے ہیں حضور

جو ان پہ سود کمایا تھا، سارا لگ گیا ہے

یہ کس کے دستِ گزارش بھنور کو اچھے لگے

یہ کیسے ناؤ سے آ کر کنارا لگ گیا ہے

Friday, 18 March 2022

آرزو جاگے ترے لمس کا رس تک جاگے

 آرزو جاگے، تِرے لمس کا رس تک جاگے

روز حسرت یہ مِری رات کے دس تک جاگے

ایسی بھرپور جوانی کہ خدا یاد آئے

ایسا با اذن سراپا کہ ہوس تک جاگے

سو گئی جُھریوں بھری آنکھ، نہیں اب کوئی

جو مِری راہ تکے، آخری بس تک جاگے

Sunday, 27 February 2022

جنوں کے ذیل میں تدبیر کی کہانی نئیں

 جنوں کے ذیل میں تدبیر کی کہانی نئیں 

حضور عشق ہے، یہ ہیر کی کہانی نئیں 

کہ ہم نے شعر نہیں زندگی کو لکھا ہے

یہ خود گزاری، کوئی میر کی کہانی نئیں

وصال آخری خواہش ہے اور پوری کر

ہمارے ساتھ یہ تصویر کی کہانی نئیں

Monday, 19 July 2021

تمہارے ہجر پہ الزام دھر گیا ہوتا

 تمہارے ہجر پہ الزام دھر گیا ہوتا

اک اور عشق نہ کرتا تو مر گیا ہوتا

بچھڑ کے تم سے زیادہ خراب ہو گیا ہوں

تمہارے ساتھ جو رہتا، سدھر گیا ہوتا

یہ اور شے ہے جو فرزانگی سے بڑھ کے ہے

یہ نشہ ہوتا تو کب کا اتر گیا ہوتا

Monday, 5 July 2021

قوس قزح سے رنگ لے اور ماہ و سال کاڑھ

 قوسِ قزح سے رنگ لے اور ماہ و سال کاڑھ

یہ ہجر ہو چکا ہے بہت، اب وصال کاڑھ

اس درد کو بھی دِین سمجھ، خامشی سے جھَیل

مرہم لگا نہ زخم پہ، نہ اِندمال کاڑھ

سُن یہ رِدائے شعر ہے کچھ تازگی برت

فرسُودگی نہ کاڑھ، نہ ہی ابتذال کاڑھ

Thursday, 24 June 2021

خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے

 خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے

گو ترے شہر میں جا کر کے بھی پیاسے آئے

اس جوانی میں بھی الزام سے ڈرنا حیرت

کون چہرے پہ نہیں کیل مہاسے آئے

اس نے اک خاص تناسب سے محبت بانٹی

میرے حصے میں ہمیشہ ہی دِلاسے آئے

Saturday, 19 June 2021

میں جانتا ہوں سبھی مسئلوں کا حل پگلی

 میں جانتا ہوں سبھی مسئلوں کا حل پگلی

تُو صرف ہاتھ پکڑ اور ساتھ چل پگلی

ہمارے جیسے غلاموں کا کیا ہے جی لیں گے

تمہیں اداس کریں گے یہ مورچھل پگلی

یہ کس کا ہجر لکھا ہے تمہارے ماتھے پر

یہ کس کے وصل نے ڈالے ہیں اتنے بل پگلی

Monday, 24 May 2021

خلا میں روز ستاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

 خلا میں روز ستاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

بچھڑنے والے دیاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

وہ آنکھ چاہے کسی زاویے سے تکتی ہو

ہزار متن اشاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

ہمارے جیسوں کو موسم ہرا نہیں کرتے

ہم ایسے سبز، بہاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں

Thursday, 29 April 2021

اگر تعلق پہ برف ایسی جمی رہے گی

 اگر تعلق پہ برف ایسی جمی رہے گی

ہمیں تمہاری، تمہیں ہماری کمی رہے گی

سمے کا دھارا سفید رُوئی گِرا رہا ہے

میں سوچتا ہوں وہ زلف کیا ریشمی رہے گی

ہمیں مکمل خوشی کبھی کیا نصیب ہو گی

ہماری قسمت میں ہلکی پھلکی غمی رہے گی

Friday, 23 April 2021

چاروں طرف سے بند تھا پتھر کا آدمی

 چاروں طرف سے بند تھا پتھر کا آدمی

باہر کہاں سے جھانکتا اندر کا آدمی

کیسے ہو ختم نشہ تِری نسبتوں کا یار

جائے کہاں اب اُٹھ کے تِرے در کا آدمی

میرے تمام راز عدو جانتا ہے کیوں

کیا اس سے مل گیا ہے کوئی گھر کا آدمی

Monday, 5 October 2020

تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں

 طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں

تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں

بس ایک بار انہیں دیکھنے کی خواہش ہے

پھر اس کے بعد یہ آنکھیں ہمیں اضافی ہیں

ترے خطوں میں بھی پہلی سی گرم جوشی نہیں

مری طرف سے بھی کچھ نوٹ اختلافی ہیں

Saturday, 15 August 2020

نئے وجود نئی عورتوں سے عشق کیا

نئے وجود نئی عورتوں سے عشق کیا
تمہارے بعد کئی عورتوں سے عشق کیا
رہیں جو ساتھ، ترستی رہیں محبت کو
کہ ہم نے صرف 'گئی عورتوں' سے عشق کیا
کسی کے ہجر میں خود کو سہارا ایسے دیا
کہ آ گئے دبئی، عورتوں سے عشق کیا

گلوں سے بات بھی کب عطر بیز کرتا ہے

گلوں سے بات بھی کب عطر بیز کرتا ہے 
غرور اتنا کہ خود سے گریز کرتا ہے 
تِری گلی سے گزرنا محال ہو گیا ہے 
تمام شہر مِرے "ایکسریز" کرتا ہے 
فلک بھی پھر تو مجھے چار کوس دِکھتا ہے
وہ مین روڈ پہ جب کار تیز کرتا ہے