زعفرانی غزل
سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے
مِرا یہ آخری سکّہ، نہ خرچ ہو جائے
مجھے یہ شوق،، مِرا کم سخن کہے کچھ تو
اسے یہ فکر کہ جملہ نہ خرچ ہو جائے
گلاب سُوکھ نہ جائے کتاب میں رکھا
پسِ نقاب ہی چہرہ نہ خرچ ہو جائے
زعفرانی غزل
سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے
مِرا یہ آخری سکّہ، نہ خرچ ہو جائے
مجھے یہ شوق،، مِرا کم سخن کہے کچھ تو
اسے یہ فکر کہ جملہ نہ خرچ ہو جائے
گلاب سُوکھ نہ جائے کتاب میں رکھا
پسِ نقاب ہی چہرہ نہ خرچ ہو جائے
بڑھے گا نفع ہمارا، خسارے جائیں گے
پڑے ہوئے ہیں کبھی تو پکارے جائیں گے
یہ آدھی رات میں دیوار پھاندنے والے
تمہاری دید کے چکر میں مارے جائیں گے
سڑک پہ بھاگتی گاڑی سے بغض کیا شے ہے
پتہ چلے گا تمہیں جب تمہارے جائیں گے
جو بائیں ہاتھ کی انگلی میں اک انگوٹھی ہے
ہمارے سر پہ قیامت کے جیسے ٹوٹی ہے
دِلا! دِلا! اے مِرے خوش گمان ہوتے دِلا
تجھے کہا تھا وہ دنیا ہے اور جھوٹی ہے
تمام رات مجھے جاگنا پڑے گا اب
تِرے خیال کی آہٹ سے نیند ٹوٹی ہے
مل کر یار بنا دیتے ہیں
دن تہوار بنا دیتے ہیں
ہوتے ہیں کچھ کام ایسے بھی
جو بے کار بنا دیتے ہیں
جادوگر ہیں دنیا والے
دو کو چار بنا دیتے ہیں
کسی فرائیڈ،، نہ کارلائل سے متصل ہے
مِری اداسی مِرے مسائل سے متصل ہے
پرائی بیٹی کی خودکشی پر فسردہ لوگو
یہاں پہ لڑکی کا بَر وسائل سے متصل ہے
یہ دھڑکنوں کا گراف اوپر تلے رہے گا
مریض کا دل کسی کی پائل سے متصل ہے
آئینہ صاف رہے،ربط میں تشکیک نہ ہو
اس لیے روز تجھے کہتے ہیں نزدیک نہ ہو
ہے اگر عشق تو پھر عشق لگے، رحم نہیں
اتنی مقدار تو دے،، وصل رہے، بھیک نہ ہو
مجھے تم ایسے اجاڑو، کہ کئی نسلوں تک
آنے والوں کو مِرے عشق کی تحریک نہ ہو
راستے ہیں بڑے سنسان کہاں جاتا ہے
رات گہری ہے مِری مان کہاں جاتا ہے
ریل کے شور مچاتے ہوئے انجن کے طفیل
رونے والوں کی طرف دھیان کہاں جاتا ہے
تیرے مصلوب گداگر نے یہیں رہنا ہے
پھٹ بھی جائے تو، گریبان کہاں جاتا ہے
تمام رنج و الم کو وہ پیارا لگ گیا ہے
جسے بھی عشق ہوا ہے بے چارا لگ گیا ہے
زیاں کے ذیل میں کچھ سانس رہ گئے ہیں حضور
جو ان پہ سود کمایا تھا، سارا لگ گیا ہے
یہ کس کے دستِ گزارش بھنور کو اچھے لگے
یہ کیسے ناؤ سے آ کر کنارا لگ گیا ہے
آرزو جاگے، تِرے لمس کا رس تک جاگے
روز حسرت یہ مِری رات کے دس تک جاگے
ایسی بھرپور جوانی کہ خدا یاد آئے
ایسا با اذن سراپا کہ ہوس تک جاگے
سو گئی جُھریوں بھری آنکھ، نہیں اب کوئی
جو مِری راہ تکے، آخری بس تک جاگے
جنوں کے ذیل میں تدبیر کی کہانی نئیں
حضور عشق ہے، یہ ہیر کی کہانی نئیں
کہ ہم نے شعر نہیں زندگی کو لکھا ہے
یہ خود گزاری، کوئی میر کی کہانی نئیں
وصال آخری خواہش ہے اور پوری کر
ہمارے ساتھ یہ تصویر کی کہانی نئیں
تمہارے ہجر پہ الزام دھر گیا ہوتا
اک اور عشق نہ کرتا تو مر گیا ہوتا
بچھڑ کے تم سے زیادہ خراب ہو گیا ہوں
تمہارے ساتھ جو رہتا، سدھر گیا ہوتا
یہ اور شے ہے جو فرزانگی سے بڑھ کے ہے
یہ نشہ ہوتا تو کب کا اتر گیا ہوتا
قوسِ قزح سے رنگ لے اور ماہ و سال کاڑھ
یہ ہجر ہو چکا ہے بہت، اب وصال کاڑھ
اس درد کو بھی دِین سمجھ، خامشی سے جھَیل
مرہم لگا نہ زخم پہ، نہ اِندمال کاڑھ
سُن یہ رِدائے شعر ہے کچھ تازگی برت
فرسُودگی نہ کاڑھ، نہ ہی ابتذال کاڑھ
خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے
گو ترے شہر میں جا کر کے بھی پیاسے آئے
اس جوانی میں بھی الزام سے ڈرنا حیرت
کون چہرے پہ نہیں کیل مہاسے آئے
اس نے اک خاص تناسب سے محبت بانٹی
میرے حصے میں ہمیشہ ہی دِلاسے آئے
میں جانتا ہوں سبھی مسئلوں کا حل پگلی
تُو صرف ہاتھ پکڑ اور ساتھ چل پگلی
ہمارے جیسے غلاموں کا کیا ہے جی لیں گے
تمہیں اداس کریں گے یہ مورچھل پگلی
یہ کس کا ہجر لکھا ہے تمہارے ماتھے پر
یہ کس کے وصل نے ڈالے ہیں اتنے بل پگلی
خلا میں روز ستاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
بچھڑنے والے دیاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
وہ آنکھ چاہے کسی زاویے سے تکتی ہو
ہزار متن اشاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
ہمارے جیسوں کو موسم ہرا نہیں کرتے
ہم ایسے سبز، بہاروں سے ہٹ کے ملتے ہیں
اگر تعلق پہ برف ایسی جمی رہے گی
ہمیں تمہاری، تمہیں ہماری کمی رہے گی
سمے کا دھارا سفید رُوئی گِرا رہا ہے
میں سوچتا ہوں وہ زلف کیا ریشمی رہے گی
ہمیں مکمل خوشی کبھی کیا نصیب ہو گی
ہماری قسمت میں ہلکی پھلکی غمی رہے گی
چاروں طرف سے بند تھا پتھر کا آدمی
باہر کہاں سے جھانکتا اندر کا آدمی
کیسے ہو ختم نشہ تِری نسبتوں کا یار
جائے کہاں اب اُٹھ کے تِرے در کا آدمی
میرے تمام راز عدو جانتا ہے کیوں
کیا اس سے مل گیا ہے کوئی گھر کا آدمی
طویل ہجر کی یکبارگی تلافی ہیں
تمہارے صبر گزاروں کو خواب کافی ہیں
بس ایک بار انہیں دیکھنے کی خواہش ہے
پھر اس کے بعد یہ آنکھیں ہمیں اضافی ہیں
ترے خطوں میں بھی پہلی سی گرم جوشی نہیں
مری طرف سے بھی کچھ نوٹ اختلافی ہیں