Monday, 5 July 2021

قوس قزح سے رنگ لے اور ماہ و سال کاڑھ

 قوسِ قزح سے رنگ لے اور ماہ و سال کاڑھ

یہ ہجر ہو چکا ہے بہت، اب وصال کاڑھ

اس درد کو بھی دِین سمجھ، خامشی سے جھَیل

مرہم لگا نہ زخم پہ، نہ اِندمال کاڑھ

سُن یہ رِدائے شعر ہے کچھ تازگی برت

فرسُودگی نہ کاڑھ، نہ ہی ابتذال کاڑھ

افلاک پر زمین کا چہرہ نہ عکس کر

دیوارِ مے کدہ پہ نہ جامِ سفال کاڑھ

چرخِ کُہن پہ اور نئے ماہتاب ٹانک

اُجلی سفید باف پہ تازہ خیال کاڑھ

خوشبو گری کو اپنے ہُنر سے عروج دے

نیرنگِ عطر بیز سے لے انفعال کاڑھ

گویائی سلب ہونے سے پہلے ہی شور کر

دیوارِ آرزو پہ حروفِ سوال کاڑھ

جذبوں کو یوں الاؤ بنا، برف گُھل سکے

اس جسم کے شرر سے مِری گرم شال کاڑھ


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment