Monday, 5 July 2021

آنکھوں کا پانی ہے جذبوں کی روانی ہے

 یہ سوچ ہماری ہے


آنکھوں کا پانی ہے

جذبوں کی روانی ہے

ماتھے پہ شکنیں ہیں

یا بخت گرانی ہے

وہ ہم کو پکارے گا

ہر سو دیوانوں سا

یا لوٹ وہ جائے گا

اپنی ہی کسی جانب

میرا تو تقاضہ تھا

وہ پاس میرے آئے

کچھ دیر یہاں رکتا

اور بات میری سنتا

میرے لیے روئے گا

وہ مجھ سے جدا ہو کر

ہر سمت وہ ڈھونڈے گا

یادوں میں فنا ہو کر

دھڑکن میں پکارے گا

میرے نام کی تسبیح کو

وہ سوگ منائے گا

یہ سوچ ہماری ہے

وہ یاد بھی رکھے گا

کب اس کا یہ وعدہ ہے


راحیلہ بیگ چغتائی

No comments:

Post a Comment