یہ سوچ ہماری ہے
آنکھوں کا پانی ہے
جذبوں کی روانی ہے
ماتھے پہ شکنیں ہیں
یا بخت گرانی ہے
وہ ہم کو پکارے گا
ہر سو دیوانوں سا
یا لوٹ وہ جائے گا
اپنی ہی کسی جانب
میرا تو تقاضہ تھا
وہ پاس میرے آئے
کچھ دیر یہاں رکتا
اور بات میری سنتا
میرے لیے روئے گا
وہ مجھ سے جدا ہو کر
ہر سمت وہ ڈھونڈے گا
یادوں میں فنا ہو کر
دھڑکن میں پکارے گا
میرے نام کی تسبیح کو
وہ سوگ منائے گا
یہ سوچ ہماری ہے
وہ یاد بھی رکھے گا
کب اس کا یہ وعدہ ہے
راحیلہ بیگ چغتائی
No comments:
Post a Comment