Showing posts with label بشیر احمد شاد. Show all posts
Showing posts with label بشیر احمد شاد. Show all posts

Saturday, 13 November 2021

دشت غربت میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا

 دشتِ غربت میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا

کیوں نہ صدیوں کا سفر ہم کو گوارا ہوتا

اپنی تزئین سے کچھ وقت بچا کر جاناں

میرے ماحول کی زلفوں کو سنوارا ہوتا

اپنے مسند سے ذرا نیچے اتر کر تو نے

ایک لمحہ ہی مِرے ساتھ گزارا ہوتا

Thursday, 21 October 2021

زخم تو زخم ہے کچھ دیر میں بھر جائے گا

 زخم تو زخم ہے کچھ دیر میں بھر جائے گا

لفظ نشتر ہے رگِ جاں میں اتر جائے گا

تیری رحمت کا یہ دریا وہ مسافر ہے کہ جو

میری بستی سے دبے پاؤں گزر جائے گا

رنگ کچا ہے تِرے شہرِ وفا کا جاناں 

غم کی ایک لہر چلے گی تو اتر جائے گا

Thursday, 20 May 2021

ان علم و آگہی کی کتابوں میں کچھ نہیں

 ان علم و آگہی کی کتابوں میں کچھ نہیں

کیا ڈھونڈھتا ہے یار نصابوں میں کچھ نہیں

خوشبو کو ڈھونڈنے کی تمنا ہے کس لیے

کچھ اور دیکھ سوکھے گلابوں میں کچھ نہیں

جب اپنے پاس پیار کی صورت نہیں رہی

چھوڑو خیال دوست کہ خوابوں میں کچھ نہیں

Wednesday, 19 May 2021

کل زندگی کے خواب کی تعبیر مل گئی

 کل زندگی کے خواب کی تعبیر مل گئی

تھی جس کی مجھ کو جستجو وہ ہِیر مل گئی

اپنی دعا پہ تھا مجھے کچھ اس قدر یقین

مانگی خدا سے جو، وہی جاگیر مل گئی

جو لوگ بے وقار سے پھرتے تھے شہر میں

میرے سبب سے ان کو بھی توقیر مل گئی

Tuesday, 11 May 2021

ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

 ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

پھُولوں کو ستانے کی خاطر ہم خار کی باتیں کرتے ہیں

کچھ لوگ گُلابوں کی صُورت کانٹوں سے گُزارہ کرتے ہیں

محرومِ محبت ہو کر بھی وہ پیار کی باتیں کرتے ہیں

کلیوں کو چٹکتا دیکھ کے جو بِجلی کو پُکارا کرتے تھے

اب راکھ اُڑا کر لوگ وہی گُلزار کی باتیں کرتے ہیں