دشتِ غربت میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا
کیوں نہ صدیوں کا سفر ہم کو گوارا ہوتا
اپنی تزئین سے کچھ وقت بچا کر جاناں
میرے ماحول کی زلفوں کو سنوارا ہوتا
اپنے مسند سے ذرا نیچے اتر کر تو نے
ایک لمحہ ہی مِرے ساتھ گزارا ہوتا
دشتِ غربت میں اگر ساتھ تمہارا ہوتا
کیوں نہ صدیوں کا سفر ہم کو گوارا ہوتا
اپنی تزئین سے کچھ وقت بچا کر جاناں
میرے ماحول کی زلفوں کو سنوارا ہوتا
اپنے مسند سے ذرا نیچے اتر کر تو نے
ایک لمحہ ہی مِرے ساتھ گزارا ہوتا
زخم تو زخم ہے کچھ دیر میں بھر جائے گا
لفظ نشتر ہے رگِ جاں میں اتر جائے گا
تیری رحمت کا یہ دریا وہ مسافر ہے کہ جو
میری بستی سے دبے پاؤں گزر جائے گا
رنگ کچا ہے تِرے شہرِ وفا کا جاناں
غم کی ایک لہر چلے گی تو اتر جائے گا
ان علم و آگہی کی کتابوں میں کچھ نہیں
کیا ڈھونڈھتا ہے یار نصابوں میں کچھ نہیں
خوشبو کو ڈھونڈنے کی تمنا ہے کس لیے
کچھ اور دیکھ سوکھے گلابوں میں کچھ نہیں
جب اپنے پاس پیار کی صورت نہیں رہی
چھوڑو خیال دوست کہ خوابوں میں کچھ نہیں
کل زندگی کے خواب کی تعبیر مل گئی
تھی جس کی مجھ کو جستجو وہ ہِیر مل گئی
اپنی دعا پہ تھا مجھے کچھ اس قدر یقین
مانگی خدا سے جو، وہی جاگیر مل گئی
جو لوگ بے وقار سے پھرتے تھے شہر میں
میرے سبب سے ان کو بھی توقیر مل گئی
ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں
پھُولوں کو ستانے کی خاطر ہم خار کی باتیں کرتے ہیں
کچھ لوگ گُلابوں کی صُورت کانٹوں سے گُزارہ کرتے ہیں
محرومِ محبت ہو کر بھی وہ پیار کی باتیں کرتے ہیں
کلیوں کو چٹکتا دیکھ کے جو بِجلی کو پُکارا کرتے تھے
اب راکھ اُڑا کر لوگ وہی گُلزار کی باتیں کرتے ہیں