Showing posts with label عرفان عرفی. Show all posts
Showing posts with label عرفان عرفی. Show all posts

Tuesday, 3 May 2022

ہم لوگ جو روتے ہوئے دیہات سے نکلے

 ہم لوگ جو روتے ہوئے دیہات سے نکلے

صد شکر کیا لعنتِ طبقات سے نکلے 

تاریخ بتاتی ہے کہ زندان میں پہنچے   

سب شاہ ہمارے جو محلات سے نکلے 

پھر ان کے لیے کٹنے لگے گردن و بازو 

الفاظ جو کچھ گونگے اشارات حرکات سے نکلے

Saturday, 2 April 2022

بزور جور و جفا ازدواج بنتے ہیں

 بزور جور و جفا ازدواج بنتے ہیں 

نتیجتاً یہاں وحشی سماج بنتے ہیں 

امیر بوڑھے سے بیٹی کو بیاہنے والا 

بتا رہا تھا فلک پر ازدوج بنتے ہیں

ہمارا قحط مقدر کہ ہم نے کاٹے ہیں 

انہی کے ہاتھ جو وجہ اناج بنتے ہیں 

Thursday, 31 March 2022

میں فرد کسی اونچے گھرانے کا نہیں تھا

 میں فرد کسی اونچے گھرانے کا نہیں تھا

سو تجھ کو پتا میرے ٹھکانے کا نہیں تھا

جس روز اجل پہنچ گئی گھر پہ ہمارے 

وہ وقت مِرے باپ کے جانے کا نہیں تھا

اس دور میں کی بھائی نے کنبے کی کفالت 

بچپن کا زمانہ جو کمانے کا نہیں تھا

Wednesday, 16 March 2022

ایسا لگتا ہے دل زار کوئی دیوتا ہے

 ایسا لگتا ہے

ایسا لگتا ہے دلِ زار کوئی دیوتا ہے 

جس کے چرنوں میں گجر دَم کوئی سُندر ناری 

روز آشاؤں کے کچھ پھول چڑھا جاتی ہے

 اور میں کم بخت کوئی ٹوٹا ہوا مندر ہوں 

جس کے اندر تو اندھیرے کا کڑا پہرا ہے 

Tuesday, 15 March 2022

ہمارا خمیر مٹی ہمارا اخیر مٹی

  مٹی


ہم آگ، پانی، ہوا کے پیکر

مگر ہمارا خمیر مٹی

غرور و کِذب و ریا کے اڑتے ہوئے غباروں میں 

آسمانوں کو چھو رہے ہیں

مگر ہمارا اخیر مٹی

تمام شہر نہ مسدود کر دیا جائے

 تمام شہر نہ مسدود کر دیا جائے 

سو اپنے آپ کو محدود کر دیا جائے 

زمیں سے سُر کی خلافت تمام ہونے تک 

کسی کو وارثِ داؤد کر دیا جائے

اے سجدہ گاہِ ملائک، اے ذلتِ آدم 

یہ حکم ہے تجھے نابود کر دیا جائے

Monday, 24 January 2022

کوئی شکوہ ہے تو اس باد سبکسار کے ساتھ

 کوئی شکوہ ہے تو اس بادِ سُبکسار کے ساتھ

لے اُڑی جو تِرا آنچل مِری دستار کے ساتھ

تُو کہ وہ جس پہ سبک سیر ہوائیں قرباں

کوئی چل پائے کہاں تک تِری رفتار کے ساتھ

جیسے ٹوٹا مِرا پِندار یہ دل جانتا ہے

Monday, 27 September 2021

تھا تخت کبھی خاک نشینوں کی امانت

 تھا تخت کبھی خاک نشینوں کی امانت

پھر بخت ہوئے شاہ کے زینوں کی امانت

گملوں میں اُگانے کا انہیں سوچ رہے ہو

جو بیج ہیں زرخیز زمینوں کی امانت

اک روز وہ صد ناز سے مہتاب پہ اُترے

جو پاؤں ہوئے علم کے زینوں کی امانت

Sunday, 26 September 2021

کہیں عیسیٰ کہیں دجال کے آنے کی خبر

 کہیں عیسیٰ کہیں دجال کے آنے کی خبر

یعنی دیتا ہی نہیں کوئی ٹھکانے کی خبر

میں ہری شاخ میں آدم کی بقا دیکھتا ہوں

تم سناتے ہو فقط حشر اٹھانے کی خبر

کاسۂ گوش میں اب ڈال، تِری عمر دراز

دل کے آنگن میں کوئی پھول کھلانے کی خبر

ذکر امیر شہر ہو افیون کے بغیر

 ذکرِ امیرِ شہر ہو افیون کے بغیر

گویا کسی کو نیک کہیں نون کے بغیر

میں اپنا اک جہان بنانے کی دُھن میں ہوں

لیکن یہ حرفِ کُن ہے فیکُون کے بغیر

ہائے وہ خوش نصیب زمانہ کہ جب یہاں

جمہوریت کا ذکر ہو شبخون کے بغیر

Saturday, 3 April 2021

بتا رہے ہو کہ غیروں کا ڈر اتارتے تھے

 بتا رہے ہو کہ غیروں کا ڈر اتارتے تھے

تم ایسے لوگ جو اپنوں کے سر اتارتے تھے

وہاں کے لوگ بتاتے ہیں جنگجو خود کو

سبھی غنیم تھکاوٹ جدھر اتارتے تھے

نجانے کون سی مٹی کی باقیات ہیں ہم

یہاں تو قافلے رختِ سفر اتارتے تھے

Friday, 2 April 2021

کمان ہاتھ میں رکھتے تھے دھیان کاندھے پر

 کمان ہاتھ میں رکھتے تھے دھیان کاندھے پر

ٹِکی نہیں ہے مگر آن بان کاندھے پر

جمے نہیں تھے ابھی خاکدان پر پاؤں

کہ آخر آن گِرا آسمان کاندھے پر

ہمارے لہجے میں تھوڑا سا عجز کیا آیا

کہ اب سوار ہے سارا جہان کاندھے پر