ہم لوگ جو روتے ہوئے دیہات سے نکلے
صد شکر کیا لعنتِ طبقات سے نکلے
تاریخ بتاتی ہے کہ زندان میں پہنچے
سب شاہ ہمارے جو محلات سے نکلے
پھر ان کے لیے کٹنے لگے گردن و بازو
الفاظ جو کچھ گونگے اشارات حرکات سے نکلے
ہم لوگ جو روتے ہوئے دیہات سے نکلے
صد شکر کیا لعنتِ طبقات سے نکلے
تاریخ بتاتی ہے کہ زندان میں پہنچے
سب شاہ ہمارے جو محلات سے نکلے
پھر ان کے لیے کٹنے لگے گردن و بازو
الفاظ جو کچھ گونگے اشارات حرکات سے نکلے
بزور جور و جفا ازدواج بنتے ہیں
نتیجتاً یہاں وحشی سماج بنتے ہیں
امیر بوڑھے سے بیٹی کو بیاہنے والا
بتا رہا تھا فلک پر ازدوج بنتے ہیں
ہمارا قحط مقدر کہ ہم نے کاٹے ہیں
انہی کے ہاتھ جو وجہ اناج بنتے ہیں
میں فرد کسی اونچے گھرانے کا نہیں تھا
سو تجھ کو پتا میرے ٹھکانے کا نہیں تھا
جس روز اجل پہنچ گئی گھر پہ ہمارے
وہ وقت مِرے باپ کے جانے کا نہیں تھا
اس دور میں کی بھائی نے کنبے کی کفالت
بچپن کا زمانہ جو کمانے کا نہیں تھا
ایسا لگتا ہے
ایسا لگتا ہے دلِ زار کوئی دیوتا ہے
جس کے چرنوں میں گجر دَم کوئی سُندر ناری
روز آشاؤں کے کچھ پھول چڑھا جاتی ہے
اور میں کم بخت کوئی ٹوٹا ہوا مندر ہوں
جس کے اندر تو اندھیرے کا کڑا پہرا ہے
مٹی
ہم آگ، پانی، ہوا کے پیکر
مگر ہمارا خمیر مٹی
غرور و کِذب و ریا کے اڑتے ہوئے غباروں میں
آسمانوں کو چھو رہے ہیں
مگر ہمارا اخیر مٹی
تمام شہر نہ مسدود کر دیا جائے
سو اپنے آپ کو محدود کر دیا جائے
زمیں سے سُر کی خلافت تمام ہونے تک
کسی کو وارثِ داؤد کر دیا جائے
اے سجدہ گاہِ ملائک، اے ذلتِ آدم
یہ حکم ہے تجھے نابود کر دیا جائے
کوئی شکوہ ہے تو اس بادِ سُبکسار کے ساتھ
لے اُڑی جو تِرا آنچل مِری دستار کے ساتھ
تُو کہ وہ جس پہ سبک سیر ہوائیں قرباں
کوئی چل پائے کہاں تک تِری رفتار کے ساتھ
جیسے ٹوٹا مِرا پِندار یہ دل جانتا ہے
تھا تخت کبھی خاک نشینوں کی امانت
پھر بخت ہوئے شاہ کے زینوں کی امانت
گملوں میں اُگانے کا انہیں سوچ رہے ہو
جو بیج ہیں زرخیز زمینوں کی امانت
اک روز وہ صد ناز سے مہتاب پہ اُترے
جو پاؤں ہوئے علم کے زینوں کی امانت
کہیں عیسیٰ کہیں دجال کے آنے کی خبر
یعنی دیتا ہی نہیں کوئی ٹھکانے کی خبر
میں ہری شاخ میں آدم کی بقا دیکھتا ہوں
تم سناتے ہو فقط حشر اٹھانے کی خبر
کاسۂ گوش میں اب ڈال، تِری عمر دراز
دل کے آنگن میں کوئی پھول کھلانے کی خبر
ذکرِ امیرِ شہر ہو افیون کے بغیر
گویا کسی کو نیک کہیں نون کے بغیر
میں اپنا اک جہان بنانے کی دُھن میں ہوں
لیکن یہ حرفِ کُن ہے فیکُون کے بغیر
ہائے وہ خوش نصیب زمانہ کہ جب یہاں
جمہوریت کا ذکر ہو شبخون کے بغیر
بتا رہے ہو کہ غیروں کا ڈر اتارتے تھے
تم ایسے لوگ جو اپنوں کے سر اتارتے تھے
وہاں کے لوگ بتاتے ہیں جنگجو خود کو
سبھی غنیم تھکاوٹ جدھر اتارتے تھے
نجانے کون سی مٹی کی باقیات ہیں ہم
یہاں تو قافلے رختِ سفر اتارتے تھے
کمان ہاتھ میں رکھتے تھے دھیان کاندھے پر
ٹِکی نہیں ہے مگر آن بان کاندھے پر
جمے نہیں تھے ابھی خاکدان پر پاؤں
کہ آخر آن گِرا آسمان کاندھے پر
ہمارے لہجے میں تھوڑا سا عجز کیا آیا
کہ اب سوار ہے سارا جہان کاندھے پر