Friday, 2 April 2021

کمان ہاتھ میں رکھتے تھے دھیان کاندھے پر

 کمان ہاتھ میں رکھتے تھے دھیان کاندھے پر

ٹِکی نہیں ہے مگر آن بان کاندھے پر

جمے نہیں تھے ابھی خاکدان پر پاؤں

کہ آخر آن گِرا آسمان کاندھے پر

ہمارے لہجے میں تھوڑا سا عجز کیا آیا

کہ اب سوار ہے سارا جہان کاندھے پر

کسی نے جھانک کے دیکھا نہیں دریچے سے

لیے لیے پھرے ہم داستان کاندھے پر

کسی کے پاس ہے دنیا کسی کے ہاتھ میں دین

سجا رکھی ہے سبھی نے دکان کاندھے پر

میں تھک گیا تو زمیں پر پٹخ دیا اک دن

بہت اٹھا کے پھِرا خاندان کاندھے پر

ہم ایسے لوگ گدھوں کی ہنسی اڑاتے ہیں

جو لے کے پھِرتے ہیں سارا جہان کاندھے پر

اسے تو مر کے بھی مٹی نہیں نصیب یہاں

اٹھائے پھرتا ہے جو خاک دان کاندھے پر

تِرا شمار غلاموں میں گِر نہیں ہوتا

تو پھر یہ کیسا ہے تیرے نشان کاندھے پر

بچے تو کیسے کوئی اُن کے وار سے عُرفی

جو لوگ رکھے ہوئے ہیں زبان کاندھے پر


عرفان عرفی

No comments:

Post a Comment