جبکہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالب کے کماؤ
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
جبکہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالب کے کماؤ
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
زعفرانی کلام
آنکھیں نکل آئی ہیں مِری سانس رکی ہے
جلد آ کہ تِری یاد گلا گھونٹ رہی ہے
دعوت کی تِری بزم میں کیوں دُھوم مچی ہے
کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے
واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھُوٹ رہی ہے
زعفرانی کلام
روح واعظ کے پھڑکنے کا مقام آتا ہے
دست ساقی سے مِرے ہاتھ میں جام آتا ہے
میں ہی کیا فالتو دُنیا میں ہوں اللہ مِرے
جو بھی غم چلتا ہے سیدھا مِِرے نام آتا ہے
اونٹ کی طرح ہیں یہ شیخ و برہمن بدنام
ان ہی بے چاروں کا ہر بات میں نام آتا ہے
شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد
تبت کبھی غائب،۔ کبھی نیپال ندارد
رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد