Showing posts with label ماچس لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label ماچس لکھنوی. Show all posts

Wednesday, 18 March 2026

جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے

 جبکہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے 

پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے

جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند 

میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے

کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالب کے کماؤ 

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

Wednesday, 23 October 2024

آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے

 زعفرانی کلام


آنکھیں نکل آئی ہیں مِری سانس رکی ہے 

جلد آ کہ تِری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

دعوت کی تِری بزم میں کیوں دُھوم مچی ہے 

کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے

واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا 

ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھُوٹ رہی ہے

Friday, 4 October 2024

روح واعظ کے پھڑکنے کا مقام آتا ہے

زعفرانی کلام


 روح واعظ کے پھڑکنے کا مقام آتا ہے 

دست ساقی سے مِرے ہاتھ میں جام آتا ہے 

میں ہی کیا فالتو دُنیا میں ہوں اللہ مِرے 

جو بھی غم چلتا ہے سیدھا مِِرے نام آتا ہے 

اونٹ کی طرح ہیں یہ شیخ و برہمن بدنام 

ان ہی بے چاروں کا ہر بات میں نام آتا ہے 

Wednesday, 4 September 2024

شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد

 شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد 

جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد

کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد 

تبت کبھی غائب،۔ کبھی نیپال ندارد

رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد 

اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد