بھائی کی یاد میں
اے بچھڑنے والے
کاش تُو بھی مجھے کرتا یاد
اور
مجھے خبر ہوتی
تمام عمر کی ریاضت میری ہوتی قبول
بھائی کی یاد میں
اے بچھڑنے والے
کاش تُو بھی مجھے کرتا یاد
اور
مجھے خبر ہوتی
تمام عمر کی ریاضت میری ہوتی قبول
مدتوں بعد کی رہائی پر
آج تو رو رہا تھا دل میرا
کوئی بھی، ہمنوا رہا تھا نہیں
آور میں ایک تماشائی کے مانندِ
ان نئے چہروں کو تکتے ہوئے
سوچتا تھا کہ اے کاش آج بھی
میں نے کیسے کیا ہے اتنا سفر
زندگی جب کہ کتنی مشکل ہے
اے میرے چاند تجھ کو کیا معلوم
تو میرے زیست کے اندھیرے کو
کیسے دیکھے گا
کیسے دیکھے گا
وہ جذبے جو محسوس میں کر رہی ہوں
آگر میں بتا دوں تو تم ہنس پڑو گے
دیوانی کہو گے مجھے سب کے آگے
مگر جان میری یہی ہے حقیقت
یہی پہلا سچ ہے ہمارے ملن
کی کہ ہم تم کبھی بھی
دل وطن میں یہ دل کی بستی
نا جانے کب کی اجڑ چکی ہے
یہ خواب ریزہ متاعِ ہستی
دلوں پہ اثر کر گئی ہے
یہ زخم سارے جو دئیے تھے تو نے
یہ روح میں گھر کر گئی ہے