فرقِ نُور و ظُلمت پر جب نظر نہیں ہوتی
رات بِیت جاتی ہے اور سحر نہیں ہوتی
آسماں پہ بادل ہیں کوئی راگنی چھیڑو
آہ" ایسے موسم میں کارگر نہیں ہوتی"
رات کے اندھیروں میں کتنے دل اُجڑتے ہیں
صبح کے ستاروں کو کچھ خبر نہیں ہوتی
زندگی اگر غم ہے یہ یقیں بھی کیا کم ہے
موت، موت ہوتی ہے، چارہ گر نہیں ہوتی
جب کوئی نہیں سُنتا بات دردمندوں کی
بات اور بڑھتی ہے، مُختصر نہیں ہوتی
شامِ غم سے بچنا ہے، دل کو خُون کرنا ہے
اس قدر اندھیرے میں خُود سحر نہیں ہوتی
شاہد صدیقی
No comments:
Post a Comment