Tuesday, 13 October 2026

مشہور نہ تھا تو بھی مرے نام سے پہلے

 آرام جو کرتے نہیں آرام سے پہلے

منزل پہ پہنچتے ہیں وہی شام سے پہلے

یہ ایک حقیقت ہے کہانی نہیں اے دوست

مشہور نہ تھا تُو بھی مِرے نام سے پہلے

دنیا جسے کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا

یہ کیا تھی تِرے جلوہ گہِ عام سے پہلے

مے خانۂ ہستی میں ہمارا ہی چلن تھا

یہ شان تھی لیکن ہوسِ جام سے پہلے

ساتھ اس کا دیا کرتے ہیں اب شام و سحر ہم

مانوس نہ تھے گردشِ ایام سے پہلے

امید ہے پھر لوٹ کر آئے گا یقیناً

وہ دور تھا جو یورشِ آلام سے پہلے


خلیق برہانپوری

No comments:

Post a Comment