آرام جو کرتے نہیں آرام سے پہلے
منزل پہ پہنچتے ہیں وہی شام سے پہلے
یہ ایک حقیقت ہے کہانی نہیں اے دوست
مشہور نہ تھا تُو بھی مِرے نام سے پہلے
دنیا جسے کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا
یہ کیا تھی تِرے جلوہ گہِ عام سے پہلے
مے خانۂ ہستی میں ہمارا ہی چلن تھا
یہ شان تھی لیکن ہوسِ جام سے پہلے
ساتھ اس کا دیا کرتے ہیں اب شام و سحر ہم
مانوس نہ تھے گردشِ ایام سے پہلے
امید ہے پھر لوٹ کر آئے گا یقیناً
وہ دور تھا جو یورشِ آلام سے پہلے
خلیق برہانپوری
No comments:
Post a Comment