جہاں میں رہتا ہوں
وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں
یونس ایمرے کی داستان محبت میں
خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی
سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں
گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں
پگڈنڈیوں پر بکھرے گھوڑوں کے سموں سے کچلے
زرد سبز پتوں سے گلے مل کر روتے ہوئے
پاشا، آفندی، آغا کی قربانی کے بھید کھول کر
دیواروں پر لہو سے لکھی داستاں میں سمو کر سناتی ہیں
تم دلفریب بہار ہو
تم حنوط چوڑیاں پہنتی ہو تو ان کی سانسیں بحال ہوتی ہیں
میں دل کے درد میں تڑپنے والا
نثری نظمیں لکھنے والا
بوٹ پالش کرنے والا غریب چرواہے کا بیٹا ہوں
تم مجھ سے ملنے نہ آیا کرو
منصف ہاشمی
No comments:
Post a Comment