Saturday, 3 October 2026

تم مجھ سے ملنے نہ آیا کرو

 جہاں میں رہتا ہوں

وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں

یونس ایمرے کی داستان محبت میں

خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی

سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں

گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں

پگڈنڈیوں پر بکھرے گھوڑوں کے سموں سے کچلے

 زرد سبز پتوں سے گلے مل کر روتے ہوئے

پاشا، آفندی، آغا کی قربانی کے بھید کھول کر

دیواروں پر لہو سے لکھی داستاں میں سمو کر سناتی ہیں

تم دلفریب بہار ہو

تم حنوط چوڑیاں پہنتی ہو تو ان کی سانسیں بحال ہوتی ہیں

میں دل کے درد میں تڑپنے والا 

نثری نظمیں لکھنے والا

بوٹ پالش کرنے والا غریب چرواہے کا بیٹا ہوں

تم مجھ سے ملنے نہ آیا کرو


منصف ہاشمی

No comments:

Post a Comment