Showing posts with label محمد اسلم. Show all posts
Showing posts with label محمد اسلم. Show all posts

Sunday, 25 April 2021

یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا

 یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا 

اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو

غیر کے ہاتھوں میں کیوں دیتے ہو اپنی پگڑی 

بات گھر کی ہے تو پھر بات کو گھر رہنے دو

آنے جانے سے ہی قائم ہیں جہاں کے رشتے 

آنا جانا ہے تو دیوار میں در رہنے دو

Tuesday, 13 April 2021

اس روش پر بھی غریب شہر کو آنا پڑا

 اس روش پر بھی غریبِ شہر کو آنا پڑا

رزق اپنا دوسروں سے مانگ کر کھانا پڑا

جب مِری تنخواہ سے بچوں کا بھر پایا نہ پیٹ

مال رشوت کا بھی مجھ کو اپنے گھر لانا پڑا

واپسی پر اس قدر تھا چہرہ کچھ بدلا ہوا

اپنے گھر والوں کو اپنا نام بتلانا پڑا

Saturday, 10 April 2021

جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے

 جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے

حق بات سر دار کرے کوئی نہیں ہے

منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں

جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ہے

آباد جہاں صورت انساں ہیں درندے 

ان محلوں کو مسمار کرے کوئی نہیں ہے

Friday, 9 April 2021

بڑا اس شہر میں چھوٹے سے درجہ چھین لیتا ہے

 بڑا اس شہر میں چھوٹے سے درجہ چھین لیتا ہے

جو افسر ہے سپاہی سے وہ تمغہ چھین لیتا ہے

ہمیشہ باز اس دنیا کے چڑیوں پر جھپٹتے ہیں

جو کوّا ہے وہ بچے سے نوالہ چھین لیتا ہے

چمن کی آبیاری تو یہاں سب لوگ کرتے ہیں

مگر خوش حالیوں کو ایک طبقہ چھین لیتا ہے

ہم جو کم مایہ ہیں زمانے میں

 ہم جو کم مایہ ہیں زمانے میں

کیا کمی ہے تِرے خزانے میں

اک نظر اس کو دیکھ آئے تھے

ہوش اب تک نہیں ٹھکانے میں

ہم پریشان حال لوگوں سے 

کون ملتا ہے اس زمانے میں