یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا
اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو
غیر کے ہاتھوں میں کیوں دیتے ہو اپنی پگڑی
بات گھر کی ہے تو پھر بات کو گھر رہنے دو
آنے جانے سے ہی قائم ہیں جہاں کے رشتے
آنا جانا ہے تو دیوار میں در رہنے دو
یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا
اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو
غیر کے ہاتھوں میں کیوں دیتے ہو اپنی پگڑی
بات گھر کی ہے تو پھر بات کو گھر رہنے دو
آنے جانے سے ہی قائم ہیں جہاں کے رشتے
آنا جانا ہے تو دیوار میں در رہنے دو
اس روش پر بھی غریبِ شہر کو آنا پڑا
رزق اپنا دوسروں سے مانگ کر کھانا پڑا
جب مِری تنخواہ سے بچوں کا بھر پایا نہ پیٹ
مال رشوت کا بھی مجھ کو اپنے گھر لانا پڑا
واپسی پر اس قدر تھا چہرہ کچھ بدلا ہوا
اپنے گھر والوں کو اپنا نام بتلانا پڑا
جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے
حق بات سر دار کرے کوئی نہیں ہے
منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں
جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ہے
آباد جہاں صورت انساں ہیں درندے
ان محلوں کو مسمار کرے کوئی نہیں ہے
بڑا اس شہر میں چھوٹے سے درجہ چھین لیتا ہے
جو افسر ہے سپاہی سے وہ تمغہ چھین لیتا ہے
ہمیشہ باز اس دنیا کے چڑیوں پر جھپٹتے ہیں
جو کوّا ہے وہ بچے سے نوالہ چھین لیتا ہے
چمن کی آبیاری تو یہاں سب لوگ کرتے ہیں
مگر خوش حالیوں کو ایک طبقہ چھین لیتا ہے
ہم جو کم مایہ ہیں زمانے میں
کیا کمی ہے تِرے خزانے میں
اک نظر اس کو دیکھ آئے تھے
ہوش اب تک نہیں ٹھکانے میں
ہم پریشان حال لوگوں سے
کون ملتا ہے اس زمانے میں