Saturday, 10 April 2021

جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے

 جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے

حق بات سر دار کرے کوئی نہیں ہے

منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں

جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ہے

آباد جہاں صورت انساں ہیں درندے 

ان محلوں کو مسمار کرے کوئی نہیں ہے

سب گنگ زبانیں ہیں یہاں شاہ کے آگے 

جو رائے کا اظہار کرے کوئی نہیں ہے

قاتل کو ہی شاباش دئیےجاتے ہیں سب لوگ 

جو اس کو نگوں سار کرے کوئی نہیں ہے

سب نیند کی گولی ہی کهلاتے ہیں مسیحا 

جو نیند سے بیدار کرے کوئی نہیں ہے

مجرم تو مرے دیس کا ہر شخص ہے اسلم

جو جرم کا اقرار کرے کوئی نہیں ہے


مولوی محمد اسلم

No comments:

Post a Comment