جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے
حق بات سر دار کرے کوئی نہیں ہے
منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں
جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ہے
آباد جہاں صورت انساں ہیں درندے
ان محلوں کو مسمار کرے کوئی نہیں ہے
سب گنگ زبانیں ہیں یہاں شاہ کے آگے
جو رائے کا اظہار کرے کوئی نہیں ہے
قاتل کو ہی شاباش دئیےجاتے ہیں سب لوگ
جو اس کو نگوں سار کرے کوئی نہیں ہے
سب نیند کی گولی ہی کهلاتے ہیں مسیحا
جو نیند سے بیدار کرے کوئی نہیں ہے
مجرم تو مرے دیس کا ہر شخص ہے اسلم
جو جرم کا اقرار کرے کوئی نہیں ہے
مولوی محمد اسلم
No comments:
Post a Comment