کتنی کشش ہے آج بھی رشتوں کے تار میں
کٹتی ہے صبح شام میری انتظار میں
ہر ہر قدم سنبھال کے رکھنے کے باوجود
ہم نے فریب کھائے بہت تیرے پیار میں
ساقی تیری نگاہ سے پینے کے باوجود
باقی ہے اب بھی ہوش تیرے بادہ خوار میں
کتنی کشش ہے آج بھی رشتوں کے تار میں
کٹتی ہے صبح شام میری انتظار میں
ہر ہر قدم سنبھال کے رکھنے کے باوجود
ہم نے فریب کھائے بہت تیرے پیار میں
ساقی تیری نگاہ سے پینے کے باوجود
باقی ہے اب بھی ہوش تیرے بادہ خوار میں
آج بدلا ہوا اندازِ خُود آرائی ہے
حُسنِ رنگیں کا ہر اک شخص تمنّائی ہے
دیکھ لیتا ہے جو تجھ کو وہ سنبھلتا ہی نہیں
اک قیامت، ارے ظالم تیری انگڑائی ہے
کل جو کرتے تھے بہت مجھ سے وفا کی باتیں
آج غیروں سے بہت ان کی شناسائی ہے
راہ چلتے ہوئے جب پاؤں میں چھالے دیکھے
ہم نے پوشیدہ اندھیروں میں اُجالے دیکھے
عیش و عشرت میں گُزرتی تھی کبھی جن کی حیات
ان کے محلوں میں لگے مکڑی کے جالے دیکھے
زہر نفرت کا فضاؤں میں وہ پھیلاتے ہیں
جس نے مسجد نہیں دیکھی، نہ شوالے دیکھے
وہاں نہ پہنچے تخیّل جہاں سے گُزری ہے
حقیقتِ غمِ ہستی وہاں سے گزری ہے
فضائیں آج معطّر ہیں رہ گُزاروں کی
مہک کسی کے وفا کی یہاں سے گزری ہے
شکستہ حال ہے کیا ان سے پوچھیے صاحب
بلائے مُفلسی جن کے مکاں سے گزری ہے