Showing posts with label اصغر علی. Show all posts
Showing posts with label اصغر علی. Show all posts

Wednesday, 21 February 2024

کتنی کشش ہے آج بھی رشتوں کے تار میں

 کتنی کشش ہے آج بھی رشتوں کے تار میں

کٹتی ہے صبح شام میری انتظار میں

ہر ہر قدم سنبھال کے رکھنے کے باوجود

ہم نے فریب کھائے بہت تیرے پیار میں

ساقی تیری نگاہ سے پینے کے باوجود

باقی ہے اب بھی ہوش تیرے بادہ خوار میں

Saturday, 3 February 2024

آج بدلا ہوا انداز خود آرائی ہے

  آج بدلا ہوا اندازِ خُود آرائی ہے

حُسنِ رنگیں کا ہر اک شخص تمنّائی ہے

دیکھ لیتا ہے جو تجھ کو وہ سنبھلتا ہی نہیں

اک قیامت، ارے ظالم تیری انگڑائی ہے

کل جو کرتے تھے بہت مجھ سے وفا کی باتیں

آج غیروں سے بہت ان کی شناسائی ہے

Saturday, 19 June 2021

راہ چلتے ہوئے جب پاؤں میں چھالے دیکھے

راہ چلتے ہوئے جب پاؤں میں چھالے دیکھے

ہم نے پوشیدہ اندھیروں میں اُجالے دیکھے

عیش و عشرت میں گُزرتی تھی کبھی جن کی حیات

ان کے محلوں میں لگے مکڑی کے جالے دیکھے

زہر نفرت کا فضاؤں میں وہ پھیلاتے ہیں

جس نے مسجد نہیں دیکھی، نہ شوالے دیکھے

Monday, 3 May 2021

وہاں نہ پہنچے تخیل جہاں سے گزری ہے

وہاں نہ پہنچے تخیّل جہاں سے گُزری ہے

حقیقتِ غمِ ہستی وہاں سے گزری ہے

فضائیں آج معطّر ہیں رہ گُزاروں کی

مہک کسی کے وفا کی یہاں سے گزری ہے

شکستہ حال ہے کیا ان سے پوچھیے صاحب

بلائے مُفلسی جن کے مکاں سے گزری ہے