عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عباسؑ کا وہ غیض وہ تیور جلال کے
خود موت رکھ رہی تھی قدم دیکھ بھال کے
اصغرؑ کو مانگا شاہؑ نے کلیجا سنبھال کے
ہاتھوں پہ ماں نے رکھ دیا دل کو نکال کے
پانی کیا طلب تو اجل نے کیا سلام
یوں بھی جواب ملتے ہیں اکثر سوال کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عباسؑ کا وہ غیض وہ تیور جلال کے
خود موت رکھ رہی تھی قدم دیکھ بھال کے
اصغرؑ کو مانگا شاہؑ نے کلیجا سنبھال کے
ہاتھوں پہ ماں نے رکھ دیا دل کو نکال کے
پانی کیا طلب تو اجل نے کیا سلام
یوں بھی جواب ملتے ہیں اکثر سوال کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عباسؑ کا وہ غیظ وہ تیور جلال کے
خود موت رکھ رہی ہے قدم دیکھ بھال کے
اصغرؑ کو مانگا شہؑ نے کلیجہ سنبھال کے
ہاتھوں پہ ماں نے رکھ دیا دِل کو نکال کے
اصغرؑ گئے نہ جُھولے سے بانوؑ کے بَین تھے
سینے سے لے گیا ہے کوئی دل نکال کے
لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر کیسا نام سجے گا
لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر ایسا نام سجے گا
لمبی پلکوں والے نے اس شہر کا دل اپنایا ہے
ہم بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں اس پر کیسا نام سجے گا
دوپہر کی گرمی ہے، اور چھاؤں نیم کی ٹھنڈی ہے
بیٹھ ہی جا اس چھاؤں میں پگلے تجھ پر یہ آرام سجے گا
پھول کی جو کچھ پنکھڑیاں ٹوٹیں
چھن سے کانچ کی چوڑیاں ٹوٹیں
دل کے مرمریں سرد فرش پر
چھن سے سانس کی بیڑیاں ٹوٹیں
پھوٹ گئی پھولوں کی خوشبو
یا کہ یاد کی لڑیاں ٹوٹیں؟
جب چاہا اقرار کیا،۔ جب چاہا انکار کیا
دیکھو ہم نے خود ہی سے کیسا انوکھا پیار کیا
ایسا انوکھا ایسا تیکھا جس کو کوئی سہہ نہ سکے
ہم سمجھے پتی پتی کو ہم نے ہی سرشار کیا
روپ انوکھے میرے ہیں اور روپ یہ تُو نے دیکھے ہیں
میں نے چاہا کر بھی دکھایا یا جنگل کو گلزار کیا
اداسیوں نے مِری آتما کو گھیرا ہے
رو پہلی چاندنی ہے اور گھپ اندھیرا ہے
کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو
جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے
قدم قدم پہ بگولوں کو توڑتے جائیں
ادھر سے گزرے گا تو راستہ یہ تیرا ہے
یہ نہ سوچو کل کیا ہو
کون کہے اس پل کیا ہو
رؤو مگر نہ رونے دو
ایسی بھی جل تھل کیا ہو
بہتی ندی کو باندھے باندھ
چلو میں ہلچل کیا ہو