Showing posts with label مینا کماری. Show all posts
Showing posts with label مینا کماری. Show all posts

Tuesday, 7 November 2023

عباس کا وہ غیض وہ تیور جلال کے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عباسؑ کا وہ غیض وہ تیور جلال کے

خود موت رکھ رہی تھی قدم دیکھ بھال کے

اصغرؑ کو مانگا شاہؑ نے کلیجا سنبھال کے

ہاتھوں پہ ماں نے رکھ دیا دل کو نکال کے

پانی کیا طلب تو اجل نے کیا سلام

یوں بھی جواب ملتے ہیں اکثر سوال کے

Thursday, 1 June 2023

عباس کا وہ غیظ وہ تیور جلال کے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عباسؑ کا وہ غیظ وہ تیور جلال کے

خود موت رکھ رہی ہے قدم دیکھ بھال کے

اصغرؑ کو مانگا شہؑ نے کلیجہ سنبھال کے

ہاتھوں پہ ماں نے رکھ دیا دِل کو نکال کے

اصغرؑ گئے نہ جُھولے سے بانوؑ کے بَین تھے

سینے سے لے گیا ہے کوئی دل نکال کے

Sunday, 17 October 2021

لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر کیسا نام سجے گا

 لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر کیسا نام سجے گا

لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر ایسا نام سجے گا

لمبی پلکوں والے نے اس شہر کا دل اپنایا ہے

ہم بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں اس پر کیسا نام سجے گا

دوپہر کی گرمی ہے، اور چھاؤں نیم کی ٹھنڈی ہے

بیٹھ ہی جا اس چھاؤں میں پگلے تجھ پر یہ آرام سجے گا

Tuesday, 20 July 2021

پھول کی جو کچھ پنکھڑیاں ٹوٹیں

 پھول کی جو کچھ پنکھڑیاں ٹوٹیں

چھن سے کانچ کی چوڑیاں ٹوٹیں

دل کے مرمریں سرد فرش پر

چھن سے سانس کی بیڑیاں ٹوٹیں

پھوٹ گئی پھولوں کی خوشبو

یا کہ یاد کی لڑیاں ٹوٹیں؟

Tuesday, 25 May 2021

جب چاہا اقرار کیا جب چاہا انکار کیا

 جب چاہا اقرار کیا،۔ جب چاہا انکار کیا

دیکھو ہم نے خود ہی سے کیسا انوکھا پیار کیا

ایسا انوکھا ایسا تیکھا جس کو کوئی سہہ نہ سکے

ہم سمجھے پتی پتی کو ہم نے ہی سرشار کیا

روپ انوکھے میرے ہیں اور روپ یہ تُو نے دیکھے ہیں

میں نے چاہا کر بھی دکھایا یا جنگل کو گلزار کیا

Friday, 15 January 2021

اداسیوں نے مری آتما کو گھیرا ہے

 اداسیوں نے مِری آتما کو گھیرا ہے

رو پہلی چاندنی ہے اور گھپ اندھیرا ہے

کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو

جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے

قدم قدم پہ بگولوں کو توڑتے جائیں

ادھر سے گزرے گا تو راستہ یہ تیرا ہے

Thursday, 3 December 2020

یہ نہ سوچو کل کیا ہو

 یہ نہ سوچو کل کیا ہو

کون کہے اس پل کیا ہو

رؤو مگر نہ رونے دو

ایسی بھی جل تھل کیا ہو

بہتی ندی کو باندھے باندھ

چلو میں ہلچل کیا ہو

Saturday, 28 November 2015

اکیلے پن کے اسی بے کنار صحرا میں

اکیلے پن کے اسی بے کنار صحرا میں
الجھی بکھری ہوئی قسمت کی لکیروں میں گھری
سفید کپڑوں سے زخموں کو اپنے ڈھانپے ہوئے 
(کفن کا رنگ نہیں ہے، یہ ہے پناہ کا رنگ)
پھر وہی میں، وہی چوراہا، وہی بے نام سکوت
دھواں، دھواں سی نظر، اور وہی سناٹا 
پھر سے احساس نے پہنا ہے بےحسی کا لباس

Friday, 27 November 2015

اللہ کرے کہ کوئی بھی میری طرح نہ ہو

اللہ کرے کہ کوئی بھی میری طرح نہ ہو
اللہ کرے کہ روح کی کوئی سطح نہ ہو
ٹوٹے ہوئے ہاتھوں سے کوئی بھیک نہ مانگے
جو فرض تھا وہ قرض ہے، پر اس طرح نہ ہو
سوچا تھا خوشبوؤں سے سانسیں بسائیں گے
چیخا لہو کہ دیکھو وہ قوسِ قزح نہ ہو

ہنسی تھمی ہے ان آنکھوں میں یوں نمی کی طرح​

ہنسی تھمی ہے ان آنکھوں میں یوں نمی کی طرح​
چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح​
تمہارا نام ہے، یا آسماں نظروں میں ​
سمٹ آیا میری گم گشتہ زندگی کی طرح ​
کہر ہے دھند دھواں ہے جس کی شکل نہیں ​
کہ دل اک روح سے لپٹا ہے اجنبی کی طرح ​

حیا سے ٹوٹ کے آہ کانپتی برسات آئی

حیا سے ٹوٹ کے آہ کانپتی برسات آئی
آج اقرارِ جرم کر ہی لیں وہ رات آئی
دھنک سے رنگ لیے بجلیوں سی آنکھوں میں
کیسی معصوم امنگوں کی یہ بارات آئی
تمام دوڑے سائے وہیں پہ ٹھہر گئے
جھجک جھجک کے لرزتی جہاں یہ بات آئی

عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے

عیادت ہوتی جاتی ہے، عبادت ہوتی جاتی ہے
مِرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے
نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھِیگے ہوئے سے ہیں
یہ بھِیگا پن ہی دیکھو، مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے
تیرے قدموں کی آہٹ کو ہے دل ڈھونڈتا ہر دم
ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

اداسیوں نے میری آتما کو گھیرا ہے

اداسیوں نے میری آتما کو گھیرا ہے
روپہلی چاندنی ہے اور گھُپ اندھیرا ہے
کہیں کہیں کوئی تارہ، کہیں کہیں جگنو
جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے
قدم قدم پہ بگولوں کو توڑتے جائیں
ادھر سے گزرے گا تو راستہ یہ تیرا ہے

Wednesday, 18 June 2014

چاند تنہا ہے آسماں تنہا

دونوں چلتے رہے یہاں تنہا

چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
بجھ گئی آس چھپ گئے تارے
تھرتھراتا رہا دھواں تنہا
زندگی کیا اسی کو کہتے ہیں
جسم تنہا ہے، اور جاں تنہا

یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے

یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے
بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے
دار و رسن سے دل تک سب راستے ادھورے
جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

پوچھتے ہو تو سنو کیسے بسر ہوتی ہے

پوچھتے ہو تو سنو کیسے بسر ہوتی ہے
رات خیرات کی، صدقے کی سحر ہوتی ہے
سانس بھرنے کو تو جینا نہیں کہتے یا رب
دل ہی دُکھتا ہے نہ اب آستیں تر ہوتی ہے
جیسے جاگی ہوئی آنکھوں میں چبھیں کانچ کے خواب
رات اس طرح دِوانوں کی بسر ہوتی ہے

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہو گا
ورنہ آندھی میں دِیا کس نے جلایا ہو گا
ذرے ذرے پہ جڑے ہونگے کنوارے سجدے
ایک ایک بت کو خدا اس نے بنایا ہو گا
پیاس جلتے ہوئے ہونٹوں کی بجھائی ہو گی
رِستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہو گا

ٹکڑے ٹکڑے دن بیتا دھجی دھجی رات ملی

ٹکڑے ٹکڑے دن بیتا، دھجی دھجی رات ملی
جس کا جتنا آنچل تھا۔ اتنی ہی سوغات ملی
رم جھم رم جھم بوندوں میں زہر بھی ہے امرت بھی ہے
آنکھیں ہنس دیں، دل رویا، یہ اچھی برسات ملی
 جب چاہا دل کو سمجھائیں، ہنسنے کی آواز سنی
جیسے کوئی کہتا ہو، لے پھر تجھ کو مات ملی

آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا

آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا
جب زلف کی کالک میں گھل جائے کوئی راہی
بدنام سہی لیکن، گمنام نہیں ہوتا
ہنس ہنس کے جواں دل کے ہم کیوں نہ چنیں ٹکڑے
ہر شخص کی قسمت میں انعام نہیں ہوتا