Thursday, 3 December 2020

یہ نہ سوچو کل کیا ہو

 یہ نہ سوچو کل کیا ہو

کون کہے اس پل کیا ہو

رؤو مگر نہ رونے دو

ایسی بھی جل تھل کیا ہو

بہتی ندی کو باندھے باندھ

چلو میں ہلچل کیا ہو

جینا آمنے سامنے کا

موت میں پھر کس بل کیا ہو

ہرچھن ہو جب آس لیے

ہرچھن پھر نربل کیا ہو

کانچ کے ٹکڑے چنے مگر

تجھ سا وہ بے کل کیا ہو

رات ہی گر چپ چاپ ملے

صبح بھی پھر چنچل کیا ہو

آج ہی آج کی کہیں اگر

کسی کی بھی کل کل کیا ہو


ماہ جبین ناز

مینا کماری ناز

No comments:

Post a Comment