Showing posts with label رفیق خیال. Show all posts
Showing posts with label رفیق خیال. Show all posts

Thursday, 29 September 2022

زرد دھوپ کی چادر اوڑھے شہر کے منظر

 مشورہ


زرد دُھوپ کی چادر اوڑھے شہر کے منظر سارے 

جانے کتنی صدیوں سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں

آنکھوں میں جگمگ کرتے ارمان سجائے بیٹھے ہیں 

کہ ہم دونوں کسی سہانی شام کی ہلکی ٹھنڈک میں لپٹے

نئے پرانے میٹھے سپنے لے کر سیر کو جا نکلیں

Thursday, 25 August 2022

نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو

 نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو

پھر بصد شوق سرِ عام مجھے مات کرو

یا نثار آج کرو مجھ پہ تمام اپنے ہُنر

یا نظر بند مِرے سارے کمالات کرو

میں روایات سے باغی تو نہیں ہوں لیکن

تم سے ممکن ہو تو تبدیل خیالات کرو

Wednesday, 17 August 2022

سناٹا چھا گیا ہے شب غم کی چاپ پر

 سناٹا چھا گیا ہے شبِ غم کی چاپ پر

سورج کو تھا یقین بہت اپنے آپ پر

وہ صاعقہ مزاج ہے میں سرد برف سا

حیرت زدہ ہیں لوگ تمام اس ملاپ پر

میں ہوں فسُردہ شام کی افسُردگی ہے اور

دُھندلا سا عکس یار ہے یادوں کی بھاپ پر

Monday, 15 August 2022

دسترس میں نہیں حالات تجھے کیا معلوم

دسترس میں نہیں حالات تجھے کیا معلوم

اب ضروری ہے ملاقات تجھے کیا معلوم

رات کے پچھلے پہر نیند شکن تنہائی

کیسے کرتی ہے سوالات تجھے کیا معلوم

تُو بضد ہے کہ سرِ عام پرستش ہو تِری

میں ہوں پابند روایات تجھے کیا معلوم

Saturday, 13 February 2021

مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں

 مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں

خواب سارے ہوں مکمل یہ ضروری تو نہیں

کوئی مجموعۂ خوشبو رگِ جان میں اُترے

اور کر دے مجھے صندل یہ ضروری تو نہیں

راحت آگیں ہے بہت تیرا سراپا، لیکن

پوجا جائے تجھے ہر پل یہ ضروری تو نہیں