مشورہ
زرد دُھوپ کی چادر اوڑھے شہر کے منظر سارے
جانے کتنی صدیوں سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں
آنکھوں میں جگمگ کرتے ارمان سجائے بیٹھے ہیں
کہ ہم دونوں کسی سہانی شام کی ہلکی ٹھنڈک میں لپٹے
نئے پرانے میٹھے سپنے لے کر سیر کو جا نکلیں
مشورہ
زرد دُھوپ کی چادر اوڑھے شہر کے منظر سارے
جانے کتنی صدیوں سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں
آنکھوں میں جگمگ کرتے ارمان سجائے بیٹھے ہیں
کہ ہم دونوں کسی سہانی شام کی ہلکی ٹھنڈک میں لپٹے
نئے پرانے میٹھے سپنے لے کر سیر کو جا نکلیں
نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو
پھر بصد شوق سرِ عام مجھے مات کرو
یا نثار آج کرو مجھ پہ تمام اپنے ہُنر
یا نظر بند مِرے سارے کمالات کرو
میں روایات سے باغی تو نہیں ہوں لیکن
تم سے ممکن ہو تو تبدیل خیالات کرو
سناٹا چھا گیا ہے شبِ غم کی چاپ پر
سورج کو تھا یقین بہت اپنے آپ پر
وہ صاعقہ مزاج ہے میں سرد برف سا
حیرت زدہ ہیں لوگ تمام اس ملاپ پر
میں ہوں فسُردہ شام کی افسُردگی ہے اور
دُھندلا سا عکس یار ہے یادوں کی بھاپ پر
دسترس میں نہیں حالات تجھے کیا معلوم
اب ضروری ہے ملاقات تجھے کیا معلوم
رات کے پچھلے پہر نیند شکن تنہائی
کیسے کرتی ہے سوالات تجھے کیا معلوم
تُو بضد ہے کہ سرِ عام پرستش ہو تِری
میں ہوں پابند روایات تجھے کیا معلوم
مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں
خواب سارے ہوں مکمل یہ ضروری تو نہیں
کوئی مجموعۂ خوشبو رگِ جان میں اُترے
اور کر دے مجھے صندل یہ ضروری تو نہیں
راحت آگیں ہے بہت تیرا سراپا، لیکن
پوجا جائے تجھے ہر پل یہ ضروری تو نہیں