زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھُولا نہیں
پھر تِرا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں
پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا
اور مِرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں
ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں
ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں
زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھُولا نہیں
پھر تِرا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں
پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا
اور مِرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں
ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں
ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں
تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں
اور اس ترکِ تعلق کی وضاحت بھی نہیں
یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مِری
وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں
جب مِری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی
ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں
اے مِرے دل! بتا خواب بُنتا ہے کیوں
رُوٹھنا ان کی فطرت ہے روتا ہے کیوں
بے وفا آدمی،۔ بے وفا زندگی
جانتا ہے اگر دل لگاتا ہے کیوں
دور رہ کر بھی جب تُو مِرے پاس ہے
تجھ کو پانے کو دل پھر مچلتا ہے کیوں
گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا
کہیں غم کا بھی داخلہ رکھنا
گر کسی کو سمجھنا اپنا تم
دھوکہ کھانے کا حوصلہ رکھنا
اتنی قربت کسی سے مت رکھو
کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا
تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے
بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے
بہت زخمی کیا ہے دل کو تم نے
تمہیں کو پھر بھی اپنایا بہت ہے
کھلے رہتے ہیں زخم دل ہمیشہ
خزاں نے ظلم تو ڈھایا بہت ہے