Showing posts with label آصفہ زمانی. Show all posts
Showing posts with label آصفہ زمانی. Show all posts

Sunday, 25 April 2021

زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھولا نہیں

 زندگی میں تجھ کو پانا آج تک بھُولا نہیں 

پھر تِرا چپکے سے جانا آج تک بھولا نہیں 

پڑ کے پیروں پر پرستش کی اجازت چاہنا 

اور مِرا وہ بوکھلانا آج تک بھولا نہیں 

ہر بشر ہے خود غرض مہر و وفا کچھ بھی نہیں 

ہم کو تنہا چھوڑ جانا آج تک بھولا نہیں 

Thursday, 8 April 2021

تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں

 تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں

اور اس ترکِ تعلق کی وضاحت بھی نہیں

یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مِری

وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں

جب مِری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی

ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں

اے مرے دل بتا خواب بنتا ہے کیوں

 اے مِرے دل! بتا خواب بُنتا ہے کیوں

رُوٹھنا ان کی فطرت ہے روتا ہے کیوں

بے وفا آدمی،۔ بے وفا زندگی

جانتا ہے اگر دل لگاتا ہے کیوں

دور رہ کر بھی جب تُو مِرے پاس ہے

تجھ کو پانے کو دل پھر مچلتا ہے کیوں

Wednesday, 7 April 2021

گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا

 گھر کو کیسا بھی تم سجا رکھنا

کہیں غم کا بھی داخلہ رکھنا

گر کسی کو سمجھنا اپنا تم

دھوکہ کھانے کا حوصلہ رکھنا

اتنی قربت کسی سے مت رکھو

کچھ ضروری ہے فاصلہ رکھنا

Tuesday, 6 April 2021

تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے

 تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے 

بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے 

بہت زخمی کیا ہے دل کو تم نے 

تمہیں کو پھر بھی اپنایا بہت ہے 

کھلے رہتے ہیں زخم دل ہمیشہ 

خزاں نے ظلم تو ڈھایا بہت ہے