Tuesday, 6 April 2021

تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے

 تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے 

بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے 

بہت زخمی کیا ہے دل کو تم نے 

تمہیں کو پھر بھی اپنایا بہت ہے 

کھلے رہتے ہیں زخم دل ہمیشہ 

خزاں نے ظلم تو ڈھایا بہت ہے 

لبِ جاناں جو زمزم آتشیں تھا 

حواسوں پر مِرے چھایا بہت ہے 

لغت میں حُسن کی تعریف ڈھونڈھی 

مگر ہر لفظ کم مایہ بہت ہے 

دلِ آتش کی سازش میں زمانی

شبِ ہجراں کو گرمایا بہت ہے 


آصفہ زمانی 

No comments:

Post a Comment