جواب مانگتا تھا میں سوال دے دیا گیا
تلاش در تلاش کا وبال دے دیا گیا
عطا ہوا تھا جب یقیں کی سبز وادیوں میں گھر
تو کیوں درِ گماں پسِ خیال دے دیا گیا
مِری زمینِ چشمِ نم میں خواب بو دئیے گئے
مجھے خمیرِ شوقِ لا زوال دے دیا گیا
ہواؤں کو دیار دل کی رات سونپ دی گئی
بدن کو شمعِ ناتواں کا حال دے دیا گیا
تمہارے بعد دولتِ غمِ جہان مل گئی
دعا قبول ہو گئی، ملال دے دیا گیا
نصیب ور تمہیں تو طوقِ حسرتِ فنا ملا
ہمیں تو خوفِ لمحۂ وصال دے دیا گیا
یہ داستانِ طفل نے سوارِ رخشِ آگہی
کمال پھر، زوال پھر کمال دے دیا گیا
عاصم بخشی
No comments:
Post a Comment