ہوا کے زور سے جب بادبان پھٹنے لگے
مسافر اپنے خداؤں کے نام رَٹنے لگے
ہمارے سینوں پہ اب بھی بہت جگہ ہے جناب
مگر تمہارے ہی ترکش میں تیر گھٹنے لگے
یزید وقت ہوا جس گھڑی سے تخت نشیں
ہمارے نام کے خنجر ہر اک میں بٹنے لگے
ہوا کے زور سے جب بادبان پھٹنے لگے
مسافر اپنے خداؤں کے نام رَٹنے لگے
ہمارے سینوں پہ اب بھی بہت جگہ ہے جناب
مگر تمہارے ہی ترکش میں تیر گھٹنے لگے
یزید وقت ہوا جس گھڑی سے تخت نشیں
ہمارے نام کے خنجر ہر اک میں بٹنے لگے
تہہ مزار کون ہے سر مزار کون تھا
جو قبر گیلی کر گیا وو اشک بار کون تھا
سبھی نے آشکار اپنے آپ کو کیا مگر
نمائشوں کی آڑ میں وہ پردہ دار کون تھا
تمام شہر غرق ہے غبار ہی غبار میں
امیر شہر یے بتا وہ خاکسار کون تھا
مغالطہ ہے، عروج و زوال تھوڑی ہے
ہماری آنکھ کے شیشہ میں بال تھوڑی ہے
ہمارے دل میں کبوتر نماز پڑھتے ہیں
ہمارے دل میں تعصّب کا جال تھوڑی ہے
لبادہ برف کا اوڑھے ہوئے ہے جوالا مُکھی
زمیں کے لاوے میں اب کے اُبال تھوڑی ہے
تِرے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا
فقیروں اور درویشوں سے ٹکرایا نہیں جاتا
نئے جُملے تلاشو،۔ واقعی گر تم مُقرر ہو
ہر اک تقریر میں جُملوں کو دُہرایا نہیں جاتا
تِری فُرقت میں سارے جسم کو پتھرا دیا میں نے
فقط آنکھیں بچی ہیں، اِن کو پتھرایا نہیں جاتا
تِرے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا
فقیروں اور درویشوں سے ٹکرایا نہیں جاتا
نئے جملے تلاشو واقعی گر تم مقرر ہو
ہر اک تقریر میں جملوں کو دہرایا نہیں جاتا
تِری فرقت میں سارے جسم کو پتھرا دیا میں نے
فقط آنکھیں بچی ہیں ان کو پتھرایا نہیں جاتا