Showing posts with label نواز عصیمی. Show all posts
Showing posts with label نواز عصیمی. Show all posts

Saturday, 17 September 2022

ہوا کے زور سے جب بادبان پھٹنے لگے

 ہوا کے زور سے جب بادبان پھٹنے لگے

مسافر اپنے خداؤں کے نام رَٹنے لگے

ہمارے سینوں پہ اب بھی بہت جگہ ہے جناب

مگر تمہارے ہی ترکش میں تیر گھٹنے لگے

یزید وقت ہوا جس گھڑی سے تخت نشیں

ہمارے نام کے خنجر ہر اک میں بٹنے لگے

Saturday, 10 September 2022

تہہ مزار کون ہے سر مزار کون تھا

 تہہ مزار کون ہے سر مزار کون تھا

جو قبر گیلی کر گیا وو اشک بار کون تھا

سبھی نے آشکار اپنے آپ کو کیا مگر

نمائشوں کی آڑ میں وہ پردہ دار کون تھا

تمام شہر غرق ہے غبار ہی غبار میں

امیر شہر یے بتا وہ خاکسار کون تھا

Tuesday, 6 September 2022

مغالطہ ہے عروج و زوال تھوڑی ہے

 مغالطہ ہے، عروج و زوال تھوڑی ہے

ہماری آنکھ کے شیشہ میں بال تھوڑی ہے

ہمارے دل میں کبوتر نماز پڑھتے ہیں

ہمارے دل میں تعصّب کا جال تھوڑی ہے

لبادہ برف کا اوڑھے ہوئے ہے جوالا مُکھی

زمیں کے لاوے میں اب کے اُبال تھوڑی ہے

Tuesday, 5 July 2022

ترے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا

 تِرے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا

فقیروں اور درویشوں سے ٹکرایا نہیں جاتا

نئے جُملے تلاشو،۔ واقعی گر تم مُقرر ہو

ہر اک تقریر میں جُملوں کو دُہرایا نہیں جاتا

تِری فُرقت میں سارے جسم کو پتھرا دیا میں نے

فقط آنکھیں بچی ہیں، اِن کو پتھرایا نہیں جاتا

Saturday, 10 April 2021

ترے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا

 تِرے مسلک میں کیا اتنا بھی سمجھایا نہیں جاتا

فقیروں اور درویشوں سے ٹکرایا نہیں جاتا

نئے جملے تلاشو واقعی گر تم مقرر ہو

ہر اک تقریر میں جملوں کو دہرایا نہیں جاتا

تِری فرقت میں سارے جسم کو پتھرا دیا میں نے

فقط آنکھیں بچی ہیں ان کو پتھرایا نہیں جاتا