ہوا کے زور سے جب بادبان پھٹنے لگے
مسافر اپنے خداؤں کے نام رَٹنے لگے
ہمارے سینوں پہ اب بھی بہت جگہ ہے جناب
مگر تمہارے ہی ترکش میں تیر گھٹنے لگے
یزید وقت ہوا جس گھڑی سے تخت نشیں
ہمارے نام کے خنجر ہر اک میں بٹنے لگے
تمہاری خوشیاں بھی میری ہیں غم بھی میرے ہیں
یہ مال مفت نہیں جو ہر اک جھپٹنے لگے
اسے چراغ کا رتبہ کہوں یا رعب کہوں
ہوا کے پر مِری دہلیز پر سمٹنے لگے
یہ کس نے پھینکا ہے پتھر دھڑکتے شعلوں پر
شرارے ہو کے جدا آگ سے اُچٹنے لگے
تیرے محل کے حصاروں کی اینٹ جھڑنے لگی
نہ ایسا ہو تیرا شاہی وقار گھٹنے لگے
نواز ہم ہی تھے جو راستہ نہیں بدلہ
وہ زلزلہ تھے کے دریا بھی رہ سے ہٹنے لگے
نواز عصیمی
No comments:
Post a Comment