Showing posts with label اکمل امام. Show all posts
Showing posts with label اکمل امام. Show all posts

Tuesday, 23 November 2021

زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے

 زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے

پتھروں میں تِری تقدیر کے دانے نکلے

درد ٹیس اور جلن سے ہیں ابھی ناواقف

زخم جو بچے ہتھیلی پہ اگانے نکلے

میں تو ہر شے کا خریدار ہوں لیکن وہ آج

اتنی جرأت کہ مِرے دام لگانے نکلے

Monday, 22 November 2021

ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں

 ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں

میں سیاہی کے سمندر سے اجالے مانگوں

جب نئی نسل نئی طرز سے جینا چاہے

کیوں نہ اس عہد سے دستور نرالے مانگوں

اپنے احساس کے صحرا میں تقدس چاہوں

اپنے جذبات کی گھاٹی میں شوالے مانگوں

Tuesday, 19 October 2021

چلو شگفتہ بیانی میں دیکھ لیتے ہیں

 چلو شگفتہ بیانی میں دیکھ لیتے ہیں

اے ظرف تجھ کو گرانی میں دیکھ لیتے ہیں

سر اونچا کر کے بڑوں کو کبھی نہیں دیکھا

ہم آسمان کو پانی میں دیکھ لیتے ہیں

الٰہی ان کی بصیرت ہمیں عطا کر دے

جو ایک قطرہ کو پانی دیکھ لیتے ہیں

Thursday, 8 July 2021

سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ

 سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ

عمر بھر خود کو امتحان میں رکھ

مانگ بھرتے ہیں جو صلیبوں کی

ان فرشتوں کو آسمان میں رکھ

جانے کس موڑ سے گزرنا ہو

اجنبی راستے گمان میں رکھ

Monday, 28 June 2021

جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں

 جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں

اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں میں

جب شناسا نہ مل سکا کوئی

اپنی جانب پلٹ گیا ہوں میں

میرا سایہ بھی بڑھ گیا مجھ سے

اس سلیقہ سے گھٹ گیا ہوں میں