زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے
پتھروں میں تِری تقدیر کے دانے نکلے
درد ٹیس اور جلن سے ہیں ابھی ناواقف
زخم جو بچے ہتھیلی پہ اگانے نکلے
میں تو ہر شے کا خریدار ہوں لیکن وہ آج
اتنی جرأت کہ مِرے دام لگانے نکلے
زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے
پتھروں میں تِری تقدیر کے دانے نکلے
درد ٹیس اور جلن سے ہیں ابھی ناواقف
زخم جو بچے ہتھیلی پہ اگانے نکلے
میں تو ہر شے کا خریدار ہوں لیکن وہ آج
اتنی جرأت کہ مِرے دام لگانے نکلے
ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں
میں سیاہی کے سمندر سے اجالے مانگوں
جب نئی نسل نئی طرز سے جینا چاہے
کیوں نہ اس عہد سے دستور نرالے مانگوں
اپنے احساس کے صحرا میں تقدس چاہوں
اپنے جذبات کی گھاٹی میں شوالے مانگوں
چلو شگفتہ بیانی میں دیکھ لیتے ہیں
اے ظرف تجھ کو گرانی میں دیکھ لیتے ہیں
سر اونچا کر کے بڑوں کو کبھی نہیں دیکھا
ہم آسمان کو پانی میں دیکھ لیتے ہیں
الٰہی ان کی بصیرت ہمیں عطا کر دے
جو ایک قطرہ کو پانی دیکھ لیتے ہیں
سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ
عمر بھر خود کو امتحان میں رکھ
مانگ بھرتے ہیں جو صلیبوں کی
ان فرشتوں کو آسمان میں رکھ
جانے کس موڑ سے گزرنا ہو
اجنبی راستے گمان میں رکھ
جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں
اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں میں
جب شناسا نہ مل سکا کوئی
اپنی جانب پلٹ گیا ہوں میں
میرا سایہ بھی بڑھ گیا مجھ سے
اس سلیقہ سے گھٹ گیا ہوں میں