عمر ڈھل رہی ہے
رُت بدل رہی ہے
میرے وجود کی ہر شاخ پر
گرد سے اٹے ہوئے
وقت کی پھوار سے
سارے پتے دُھل رہے ہیں
عمر ڈھل رہی ہے
رُت بدل رہی ہے
میرے وجود کی ہر شاخ پر
گرد سے اٹے ہوئے
وقت کی پھوار سے
سارے پتے دُھل رہے ہیں
بھوک کا مارا ہوا تھا
اے کمینے پیٹ! میں نے
خواب گروی رکھ دئیے
میں وہ مفلس ہوں کہ جس نے
ہیرے جیسے قیمتی اپنے
ہاتھ گروی رکھ دئیے
چشمہ
تم میرے نا محرم ہو
پھر کیوں خواب میں آتے ہو؟
شب گر تم کو خواب میں دیکھوں
اٹھ کر اپنی آنکھیں کوسوں
عکس تمہارا دیکھے کوئی
زخموں کے پھر سے تم بخیئے اکھاڑتے ہو
اس نامراد کو کیوں پھر سے پکارتے ہو
گر ہے عزیز تم کو ایسی ہی خستہ حالی
کر کے جتن کیوں اپنا حلیہ سنوارتے ہو
ملتے نہیں اگر وہ، فارغ ہو تم کہاں؟
کر کر کے منتیں خود ان کو بگاڑتے ہو
سنو ناں بابا
لاڈو رانی کی ایک کردار کا اپنے بابا کے نام خط
چلے بھی آؤ
غصہ چھوڑو
مان جاؤ
میری اکھڑتی ہوئی یہ سانسیں
تمہاری معافی کی منتظر ہیں
عجب سی بو ہے سوئے عالم
مہک محبت کی کھو گئی ہے
نہ مسجدوں میں سکوں ہے باقی
نہ مندروں میں کہیں ہے شانتی
ہے گرجوں میں بھی تو بے قراری
سٹوپا میں بھی بسے بے زاری
مڈل کلاس
ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے؟
یہ دھول مٹی سے اٹتی صبحیں
یہ گرد آلود دُھندلی شامیں
یہ کٹتی، جلتی، ادھوری سانسیں
یہ بند در، ادھ کُھلی سے کھڑکی
کہ جس کے در پر لگی ہے جالی
ہیں میرے حصے کے
سوگ کتنے
ہزاروں ہی روگ
ڈھیروں ماتم
جو منتظر ہیں
انہیں مناؤں