Showing posts with label ثمین بلوچ. Show all posts
Showing posts with label ثمین بلوچ. Show all posts

Thursday, 13 April 2023

عمر ڈھل رہی ہے رت بدل رہی ہے

 عمر ڈھل رہی ہے

رُت بدل رہی ہے

میرے وجود کی ہر شاخ پر

گرد سے اٹے ہوئے

وقت کی پھوار سے

سارے پتے دُھل رہے ہیں

Tuesday, 21 March 2023

خواب گروی رکھ دئیے

 بھوک کا مارا ہوا تھا

اے کمینے پیٹ! میں نے

خواب گروی رکھ دئیے

میں وہ مفلس ہوں کہ جس نے

ہیرے جیسے قیمتی اپنے

ہاتھ گروی رکھ دئیے

Sunday, 19 March 2023

تم کو کوئی دیکھ نہ پائے ایسا چشمہ لانا ہو گا

 چشمہ


تم میرے نا محرم ہو

پھر کیوں خواب میں آتے ہو؟

شب گر تم کو خواب میں دیکھوں

اٹھ کر اپنی آنکھیں کوسوں

عکس تمہارا دیکھے کوئی

Wednesday, 5 October 2022

زخموں کے پھر سے تم بخیئے اکھاڑتے ہو

  زخموں کے پھر سے تم بخیئے اکھاڑتے ہو

اس نامراد کو کیوں پھر سے پکارتے  ہو

گر ہے عزیز تم کو ایسی ہی خستہ حالی

کر کے جتن کیوں اپنا حلیہ سنوارتے ہو

ملتے نہیں اگر وہ، فارغ ہو تم کہاں؟

کر کر کے منتیں خود ان کو بگاڑتے ہو

Monday, 3 October 2022

سنو ناں بابا چلے بھی آؤ غصہ چھوڑو مان جاؤ

 سنو ناں بابا


لاڈو رانی کی ایک کردار کا اپنے بابا کے نام خط


چلے بھی آؤ

غصہ چھوڑو

مان جاؤ

میری اکھڑتی ہوئی یہ سانسیں

تمہاری معافی کی منتظر ہیں

Friday, 2 September 2022

مہک محبت کی کھو گئی ہے

عجب سی بو ہے سوئے عالم

مہک محبت کی کھو گئی ہے

نہ مسجدوں میں سکوں ہے باقی

نہ مندروں میں کہیں ہے شانتی

ہے گرجوں میں بھی تو بے قراری

سٹوپا میں بھی بسے بے زاری

Tuesday, 30 August 2022

مڈل کلاسوں میں جنمی روحیں

مڈل کلاس


ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے؟

یہ دھول مٹی سے اٹتی صبحیں

یہ گرد آلود دُھندلی شامیں

یہ کٹتی، جلتی، ادھوری سانسیں

یہ بند در، ادھ کُھلی سے کھڑکی

کہ جس کے در پر لگی ہے جالی

Friday, 19 August 2022

ہیں میرے حصے کے سوگ کتنے

ہیں میرے حصے کے

سوگ کتنے

ہزاروں ہی روگ

 ڈھیروں ماتم 

جو منتظر ہیں

انہیں مناؤں