زخموں کے پھر سے تم بخیئے اکھاڑتے ہو
اس نامراد کو کیوں پھر سے پکارتے ہو
گر ہے عزیز تم کو ایسی ہی خستہ حالی
کر کے جتن کیوں اپنا حلیہ سنوارتے ہو
ملتے نہیں اگر وہ، فارغ ہو تم کہاں؟
کر کر کے منتیں خود ان کو بگاڑتے ہو
ہیں اس قدر حسیں کیا، کرو ذرا نظر ثانی
دل کو جلا کے جن کی نظریں اتارتے ہو
جی چاہتا ہے عشق کی مٹی پلید کردوں
لے لے نام اس کا، جب مجھ کو مارتے ہو
ثمین بلوچ
No comments:
Post a Comment