Wednesday, 5 October 2022

زخموں کے پھر سے تم بخیئے اکھاڑتے ہو

  زخموں کے پھر سے تم بخیئے اکھاڑتے ہو

اس نامراد کو کیوں پھر سے پکارتے  ہو

گر ہے عزیز تم کو ایسی ہی خستہ حالی

کر کے جتن کیوں اپنا حلیہ سنوارتے ہو

ملتے نہیں اگر وہ، فارغ ہو تم کہاں؟

کر کر کے منتیں خود ان کو بگاڑتے ہو

ہیں اس قدر حسیں کیا، کرو ذرا نظر ثانی

دل کو جلا کے جن کی نظریں اتارتے ہو

جی چاہتا ہے عشق کی مٹی پلید کردوں

لے لے نام اس کا، جب مجھ کو مارتے ہو


ثمین بلوچ

No comments:

Post a Comment