Showing posts with label حسن مسعود. Show all posts
Showing posts with label حسن مسعود. Show all posts

Thursday, 14 September 2023

لباس جسم کے اندر شرار ہوتے ہوئے

 لباس جسم کے اندر شرار ہوتے ہوئے

عجیب نقش تھے آنکھوں کے پار ہوتے ہوئے

میں اپنی سوچ میں گم تھا کہ دور جھیلوں پر

اُتر گئے تھے پرندے قطار ہوتے ہوئے

پلٹ گئے تھے مِری آنکھ میں پڑے منظر

مِرے خیال کی سکریں پہ بار ہوتے ہوئے

Thursday, 1 June 2023

یہ رات کون ہوا تھا زمیں کی شال میں گم

 یہ رات کون ہوا تھا زمیں کی شال میں گُم

دِیا طواف میں تھا روشنی کے جال میں گم

کچھ اس طرح سے رہا میں تِرے جمال میں گم

کہ جیسے شام کا منظر کسی خیال میں گم

مِرے جنوب کا رستہ تھا میری آنکھوں میں

مِری زمین کہ ہوتی رہی شمال میں گم

Wednesday, 24 May 2023

تیری سانسوں میں رفو شام میں رکھا ہوا میں

تیری سانسوں میں رفو شام میں رکھا ہوا میں

اِک دِیا وقت کے اہرام میں رکھا ہوا میں

تُو سمندر کے کسی خواب کا اوڑھا ہوا دن

اور تہہِ وحشتِ صد کام میں رکھا ہوا میں

میں تِرے شہر کے موسم کی کسی شام کا دُکھ

اور کسی کوچۂ گُمنام میں رکھا ہوا میں

Sunday, 12 December 2021

ترے خیال کو اوڑھا بدن کو جادہ کیا

 تِرے خیال کو اوڑھا بدن کو جادہ کیا

سفر کے شوق میں لمحوں کو یوں بھی سادہ کیا

یوں میں نے وقت کے گھوڑے پہ عمر پوری کی

نظر کو زِین پہ رکھا،۔ سفر پیادہ کیا

گرے ہوئے ہیں درختوں کے خواب سڑکوں پر

یہ تُو نے کون سے موسم میں مجھ سے وعدہ کیا

Monday, 16 November 2020

میں اس واسطے لگتا ہوں گزارا ہوا دن

 میں اس واسطے لگتا ہوں گزارا ہوا دن

مجھ میں رکھا ہے کوئی رات کا مارا ہوا دن

تم مجھے آنکھ میں کاٹی ہوئی اک شب دے دو

میرے گھر میں جو پڑا ہے وہ تمہارا ہوا دن

آج بھی چیڑ کی خوشبو کی طرح ہے مجھ میں

جھیل چشمے پہ تیرے ساتھ گزارا ہوا دن