لباس جسم کے اندر شرار ہوتے ہوئے
عجیب نقش تھے آنکھوں کے پار ہوتے ہوئے
میں اپنی سوچ میں گم تھا کہ دور جھیلوں پر
اُتر گئے تھے پرندے قطار ہوتے ہوئے
پلٹ گئے تھے مِری آنکھ میں پڑے منظر
مِرے خیال کی سکریں پہ بار ہوتے ہوئے
لباس جسم کے اندر شرار ہوتے ہوئے
عجیب نقش تھے آنکھوں کے پار ہوتے ہوئے
میں اپنی سوچ میں گم تھا کہ دور جھیلوں پر
اُتر گئے تھے پرندے قطار ہوتے ہوئے
پلٹ گئے تھے مِری آنکھ میں پڑے منظر
مِرے خیال کی سکریں پہ بار ہوتے ہوئے
یہ رات کون ہوا تھا زمیں کی شال میں گُم
دِیا طواف میں تھا روشنی کے جال میں گم
کچھ اس طرح سے رہا میں تِرے جمال میں گم
کہ جیسے شام کا منظر کسی خیال میں گم
مِرے جنوب کا رستہ تھا میری آنکھوں میں
مِری زمین کہ ہوتی رہی شمال میں گم
تیری سانسوں میں رفو شام میں رکھا ہوا میں
اِک دِیا وقت کے اہرام میں رکھا ہوا میں
تُو سمندر کے کسی خواب کا اوڑھا ہوا دن
اور تہہِ وحشتِ صد کام میں رکھا ہوا میں
میں تِرے شہر کے موسم کی کسی شام کا دُکھ
اور کسی کوچۂ گُمنام میں رکھا ہوا میں
تِرے خیال کو اوڑھا بدن کو جادہ کیا
سفر کے شوق میں لمحوں کو یوں بھی سادہ کیا
یوں میں نے وقت کے گھوڑے پہ عمر پوری کی
نظر کو زِین پہ رکھا،۔ سفر پیادہ کیا
گرے ہوئے ہیں درختوں کے خواب سڑکوں پر
یہ تُو نے کون سے موسم میں مجھ سے وعدہ کیا
میں اس واسطے لگتا ہوں گزارا ہوا دن
مجھ میں رکھا ہے کوئی رات کا مارا ہوا دن
تم مجھے آنکھ میں کاٹی ہوئی اک شب دے دو
میرے گھر میں جو پڑا ہے وہ تمہارا ہوا دن
آج بھی چیڑ کی خوشبو کی طرح ہے مجھ میں
جھیل چشمے پہ تیرے ساتھ گزارا ہوا دن