جیسے سورج کی آنکھ بھی نم ہے
آج کتنا اداس موسم ہے
اب تو میں دشمنوں کی زد میں ہوں
اب مجھے دوستوں کا کیا غم ہے
بجھ چکی ہیں شعور کی کرنیں
واقعی آج روشنی کم ہے
جیسے سورج کی آنکھ بھی نم ہے
آج کتنا اداس موسم ہے
اب تو میں دشمنوں کی زد میں ہوں
اب مجھے دوستوں کا کیا غم ہے
بجھ چکی ہیں شعور کی کرنیں
واقعی آج روشنی کم ہے
طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے
مجھ میں چھپا ہوا مِرے اندر کا خوف ہے
امید جس سے زندہ تھی وہ فصل جل گئی
جو رہن رکھ چکا ہوں اسی گھر کا خوف ہے
میرے بدن میں جس سے دراڑیں سی پڑ گئیں
آنکھوں میں آج بھی اسی منظر کا خوف ہے
کلی کلی میں نہاں ہچکچاہٹیں پہچان
تُو شاخ گل پہ گلِ نو کی آہٹیں پہچان
لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر
لبوں پہ لفظ نہ گِن، کپکپاہٹیں پہچان
میں پنکھڑی کی طرح اپنے ہونٹ وا کر دوں
تُو تتلیوں کی طرح گنگناہٹیں پہچان
نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی
اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی
میں نفرت اور محبت دونوں میں شدت کا قائل ہوں
مجھے جذبوں کی یہ خانہ پُری اچھی نہیں لگتی
میں اپنی ذات میں بھی اک خلا محسوس کرتا ہوں
تمہارے بعد کوئی چیز بھی اچھی نہیں لگتی
تم اُداس مت ہونا
رتجگوں کے صحرا میں خواب جب اُجڑ جائیں
تم اُداس مت ہونا
زندگی کے میلے میں ہم اگر بچھڑ جائیں
تم اداس مت ہونا
جن پر نام لکھے ہوں، ان اُجاڑ شاخوں پر