Showing posts with label نذیر تبسم. Show all posts
Showing posts with label نذیر تبسم. Show all posts

Tuesday, 22 March 2022

جیسے سورج کی آنکھ بھی نم ہے

 جیسے سورج کی آنکھ بھی نم ہے

آج کتنا اداس موسم ہے

اب تو میں دشمنوں کی زد میں ہوں

اب مجھے دوستوں کا کیا غم ہے

بجھ چکی ہیں شعور کی کرنیں

واقعی آج روشنی کم ہے

Friday, 11 March 2022

طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے

 طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے

مجھ میں چھپا ہوا مِرے اندر کا خوف ہے

امید جس سے زندہ تھی وہ فصل جل گئی

جو رہن رکھ چکا ہوں اسی گھر کا خوف ہے

میرے بدن میں جس سے دراڑیں سی پڑ گئیں

آنکھوں میں آج بھی اسی منظر کا خوف ہے

Thursday, 10 March 2022

کلی کلی میں نہاں ہچکچاہٹیں پہچان

 کلی کلی میں نہاں ہچکچاہٹیں پہچان

تُو شاخ گل پہ گلِ نو کی آہٹیں پہچان

لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر

لبوں پہ لفظ نہ گِن، کپکپاہٹیں پہچان

میں پنکھڑی کی طرح اپنے ہونٹ وا کر دوں

تُو تتلیوں کی طرح گنگناہٹیں پہچان

Saturday, 3 April 2021

نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی

 نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی

اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی

میں نفرت اور محبت دونوں میں شدت کا قائل ہوں

مجھے جذبوں کی یہ خانہ پُری اچھی نہیں لگتی

میں اپنی ذات میں بھی اک خلا محسوس کرتا ہوں

تمہارے بعد کوئی چیز بھی اچھی نہیں‌ لگتی

Friday, 2 April 2021

تم اداس مت ہونا

 تم اُداس مت ہونا


رتجگوں کے صحرا میں خواب جب اُجڑ جائیں

تم اُداس مت ہونا

زندگی کے میلے میں ہم اگر بچھڑ جائیں

تم اداس مت ہونا

جن پر نام لکھے ہوں، ان اُجاڑ شاخوں پر