Friday, 2 April 2021

تم اداس مت ہونا

 تم اُداس مت ہونا


رتجگوں کے صحرا میں خواب جب اُجڑ جائیں

تم اُداس مت ہونا

زندگی کے میلے میں ہم اگر بچھڑ جائیں

تم اداس مت ہونا

جن پر نام لکھے ہوں، ان اُجاڑ شاخوں پر

کب بہار آئی ہے

آرزو کی ٹہنی سے جب گُلاب جھڑ جائیں

تم اداس مت ہونا

جان کیا ضروری ہے، رشتے نارسائی میں

اک دُعا بھی پوری ہو

ہم اگر رواجوں کی سُولیوں پہ گڑ جائیں

تم اداس مت ہونا

وقت اک درندہ ہے اور ہم سبھی اس کی

دہشتوں کی زد میں ہیں

جب یہ بے سکوں لمحے اپنی ضد پہ اَڑ جائیں

تم اداس مت ہونا

جبر کی فضاؤں میں، مسکرا کے جی لینا

یہ بھی اک عبادت ہے

چاہے قرض کے سائے میرے قد سے بڑھ جائیں

تم اداس مت ہونا


نذیر تبسم

No comments:

Post a Comment