میں تو سمجھا تھا کوئی بوڑھا شجر بیچا ہے
کیا خبر تھی کہ پرندوں کا نگر بیچا ہے
حال مت پوچھ مِرے فاقہ زدہ لوگوں کا
آنکھ بیچی تو کہیں نورِ نظر بیچا ہے
جانے کیسی تھی وہ مجبوری کہ ماں نے اپنا
چند سِکوں کے عوض لختِ جگر بیچا ہے
میں تو سمجھا تھا کوئی بوڑھا شجر بیچا ہے
کیا خبر تھی کہ پرندوں کا نگر بیچا ہے
حال مت پوچھ مِرے فاقہ زدہ لوگوں کا
آنکھ بیچی تو کہیں نورِ نظر بیچا ہے
جانے کیسی تھی وہ مجبوری کہ ماں نے اپنا
چند سِکوں کے عوض لختِ جگر بیچا ہے
پیلے پتے
گاؤں کا اک کچا سا گھر
گھر کے صحن میں بیری کا اک پیڑ
پیڑ پہ بولتے طوطے
اور ایک مانوس سی آواز؛
آؤ نا؛ دیکھو کتنے بیر چُنے ہیں میں نے
جانے والے نے کبھی مڑ کے جو دیکھا ہوتا
لوٹ آنے کا ہمیں کوئی بھروسہ ہوتا
مجھ سے کرتا نہ کوئی بات بچھڑنے والی
مِرے جذبوں کو اگر اس نے بھی سمجھا ہوتا
یہ تو معلوم تھا، اک روز چلا جائے گا
گر بتا کر وہ چلا جاتا, تو اچھا جاتا
کہو نا کچھ تو اے مِرے دلبر! اداس کیوں ہو
مجھے بتاؤ قریب آ کر، اداس کیوں ہو
اگر یہ سب کچھ خدا کی مرضی سے ہو رہا ہے
تو اس پہ چھوڑو اے بندہ پرور! اداس کیوں ہو
اگرچہ تم کو کوئی شکایت، کوئی گِلہ ہے
چلا دو اپنی زباں کے نشتر، اداس کیوں ہو
یہ زرد موسم کے پھول سارے محبتوں کا حصول ٹھہرے
اداس آنکھوں کی چلمنوں پر وفا کے موتی فضول ٹھہرے
وصال لمحوں کے منتظر ہیں رکے ہوئے یہ تمام منظر
کبھی جو آؤ تو درد ٹھہرے یہ آنسوؤں کا نزول ٹھہرے
سنا ہے اس نے رقیبِ دل کو مری وفا کی مثال دی ہے
اگر یہ سچ ہے یقین مانو مجھے یہ سب دکھ قبول ٹھہرے