Showing posts with label مسرت عباس. Show all posts
Showing posts with label مسرت عباس. Show all posts

Wednesday, 2 August 2023

میں تو سمجھا تھا کوئی بوڑھا شجر بیچا ہے

 میں تو سمجھا تھا کوئی بوڑھا شجر بیچا ہے

کیا خبر تھی کہ پرندوں کا نگر بیچا ہے

حال مت پوچھ مِرے فاقہ زدہ لوگوں کا

آنکھ بیچی تو کہیں نورِ نظر بیچا ہے

جانے کیسی تھی وہ مجبوری کہ ماں نے اپنا

چند سِکوں کے عوض لختِ جگر بیچا ہے

Thursday, 22 June 2023

اب میں بیر نہیں چنتی میں پیلے پتے چنتی ہوں

 پیلے پتے


گاؤں کا اک کچا سا گھر

گھر کے صحن میں بیری کا اک پیڑ

پیڑ پہ بولتے طوطے

اور ایک مانوس سی آواز؛

آؤ نا؛ دیکھو کتنے بیر چُنے ہیں میں نے

Thursday, 15 June 2023

جانے والے نے کبھی مڑ کے جو دیکھا ہوتا

 جانے والے نے کبھی مڑ کے جو دیکھا ہوتا

لوٹ آنے کا ہمیں کوئی بھروسہ ہوتا

مجھ سے کرتا نہ کوئی بات بچھڑنے والی

مِرے جذبوں کو اگر اس نے بھی سمجھا ہوتا

یہ تو معلوم تھا، اک روز چلا جائے گا

گر بتا کر وہ چلا جاتا, تو اچھا جاتا

Tuesday, 13 June 2023

کہو نا کچھ تو اے مرے دلبر اداس کیوں ہو

 کہو نا کچھ تو اے مِرے دلبر! اداس کیوں ہو

مجھے بتاؤ قریب آ کر، اداس کیوں ہو

اگر یہ سب کچھ خدا کی مرضی سے ہو رہا ہے

تو اس پہ چھوڑو اے بندہ پرور! اداس کیوں ہو

اگرچہ تم کو کوئی شکایت، کوئی گِلہ ہے

چلا دو اپنی زباں کے نشتر، اداس کیوں ہو

Friday, 14 January 2022

یہ زرد موسم کے پھول سارے محبتوں کا حصول ٹھہرے

 یہ زرد موسم کے پھول سارے محبتوں کا حصول ٹھہرے

اداس آنکھوں کی چلمنوں پر وفا کے موتی فضول ٹھہرے

وصال لمحوں کے منتظر ہیں رکے ہوئے یہ تمام منظر

کبھی جو آؤ تو درد ٹھہرے یہ آنسوؤں کا نزول ٹھہرے

سنا ہے اس نے رقیبِ دل کو مری وفا کی مثال دی ہے

اگر یہ سچ ہے یقین مانو مجھے یہ سب دکھ قبول ٹھہرے