عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ سر ہے صدقہ نبیؐ کا اتارنے کے لیے
یہ زندگی ہے محمدﷺ پہ وارنے کے لیے
یہ دل ہے یادِ نبیؐ سے سنوارنے کے لیے
ذباں ہے ہر گھڑی انؐ کو پکارنے کے لیے
حیات عشق میں انؐ کے گزاریے ایسے
وہؐ خود ہی آئیں لحد میں اتارنے کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ سر ہے صدقہ نبیؐ کا اتارنے کے لیے
یہ زندگی ہے محمدﷺ پہ وارنے کے لیے
یہ دل ہے یادِ نبیؐ سے سنوارنے کے لیے
ذباں ہے ہر گھڑی انؐ کو پکارنے کے لیے
حیات عشق میں انؐ کے گزاریے ایسے
وہؐ خود ہی آئیں لحد میں اتارنے کے لیے
نہیں ہم محبت سے گھبرانے والے
چلے جائیں چاہے چلے جانے والے
تڑپتے ہیں ہم یہ ہمارا مقدر
سلامت رہیں ہم کو تڑپانے والے
ستم جس قدر تم سے ہوتے ہیں کر لو
کہاں ہم محبت سے باز آنے والے
عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا
سرتاج تیرے حیدرِؑ کرار فاطمہؑ
بابا جہاں کے سرور و سردار فاطمہ
تفسیر تیری ذات ہے، قرآنِ پاک کی
ہے عین راہِ حق تِرا کردار فاطمہ
اللہ اور رسول بھی ہوتے ہیں مہرباں
جس پر شفیق ہو گئیں اک بار فاطمہ
تمہیں گر محبت گوارا نہیں ہے
ہمیں بھی تو نفرت گوارا نہیں ہے
یہ پل بھر میں کیسا تعلق ہوا ہے
کہ پل بھر کی فرقت گوارا نہیں ہے
عجب ہے کہ ہم نے فرائض تو چھوڑے
مگر ترکِ الفت گوارا نہیں ہے
کچھ تعلق مخلصانہ چاہیۓ
بات کا کوئی بہانہ چاہیۓ
ہم ہیں بنجارے محل سے کیا غرض
کوئی ٹوٹا آشیانہ چاہیۓ
بعد مرنے کے مثالیں دے جہاں
یوں محبت کو نبھانا چاہیۓ
پیغام دے رہے ہیں خدا کا غدیر میں
مولا کا ہاتھ تھام کے مولا غدیر میں
پہنچی صدائے نامِ علی عرش سے پرے
مولا کا نام اس طرح گونجا غدیر میں
ہے بعد میرے کون سہارا بتا دیا
میرے نبیؐ نے راز یہ کھولا غدیر میں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مِرے آقا مِرے سلطان، بسم اللہ
مِری جاں آپؐ پر قربان بسم اللہ
رسائی رب تلک جن سے ہوئی ممکن
میں ان کی لکھ رہا ہوں شان بسم اللہ
کیا ہے نعت میں بھی حمد کا چرچا
جو رکھا نعت کا عنوان بسم اللہ
یہ ہجر کیا ہے وصال کیا ہے
یہ حُسن کیا ہے، جمال کیا ہے
میں کب سے بیٹھا ہوں لے کے کاسہ
کبھی تو پوچھو سوال کیا ہے
خدا کے بخشے پہ ناز کیسا
تمہارا اس میں کمال کیا ہے
بغلِ یاران میں خنجر بھی تو ہو سکتا ہے
یار امید سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے
ہجر کا زخم دیا تُو نے جو میرے دل کو
زخم ایسا تِرے دل پر بھی تو ہو سکتا ہے
یہ ضروری تو نہیں آنکھ سے دریا نکلے
دل میں اک غم کا سمندر بھی تو ہو سکتا ہے
دئیے ہیں زیست نے مجھ کو بڑے آلام تیرے بعد
مٹا بیٹھا ہوں اپنی ذات اپنا نام تیرے بعد
تِرے نینوں ہی سے پی کر مِرا دل مست ہوتا تھا
مزہ دیتا نہیں ہے مجھ کو یارا جام تیرے بعد
تُو جانا چاہتا تھا، میں نے بھی تجھ کو نہیں روکا نا
مگر دل کی زمیں پر اک مچا کہرام تیرے بعد
کسی سے دور جانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
گزارے پَل بھُلانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
جو بھٹکے راہ سے پنچھی گھنے جنگل میں آ بیٹھے
انہیں رستے پہ لانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
مِری خاطر ہو کیوں جگتے ستارو تم تو سو جاؤ
مجھے تو نیند آنے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے