Showing posts with label باسط حیدری. Show all posts
Showing posts with label باسط حیدری. Show all posts

Thursday, 22 June 2023

یہ سر ہے صدقہ نبی کا اتارنے کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ سر ہے صدقہ نبیؐ کا اتارنے کے لیے

یہ زندگی ہے محمدﷺ پہ وارنے کے لیے

یہ دل ہے یادِ نبیؐ سے سنوارنے کے لیے

ذباں ہے ہر گھڑی انؐ کو پکارنے کے لیے

حیات عشق میں انؐ کے گزاریے ایسے

وہؐ خود ہی آئیں لحد میں اتارنے کے لیے

Thursday, 14 October 2021

نہیں ہم محبت سے گھبرانے والے

 نہیں ہم محبت سے گھبرانے والے

چلے جائیں چاہے چلے جانے والے

تڑپتے ہیں ہم یہ ہمارا مقدر

سلامت رہیں ہم کو تڑپانے والے

ستم جس قدر تم سے ہوتے ہیں کر لو

کہاں ہم محبت سے باز آنے والے

Thursday, 7 October 2021

سرتاج تیرے حیدر کرار فاطمہ

 عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا


سرتاج تیرے حیدرِؑ کرار فاطمہؑ

بابا جہاں کے سرور و سردار فاطمہ

تفسیر تیری ذات ہے، قرآنِ پاک کی

ہے عین راہِ حق تِرا کردار فاطمہ

اللہ اور رسول بھی ہوتے ہیں مہرباں

جس پر شفیق ہو گئیں اک بار فاطمہ

Sunday, 3 October 2021

تمہیں گر محبت گوارا نہیں ہے

 تمہیں گر محبت گوارا نہیں ہے

ہمیں بھی تو نفرت گوارا نہیں ہے

یہ پل بھر میں کیسا تعلق ہوا ہے

کہ پل بھر کی فرقت گوارا نہیں ہے

عجب ہے کہ ہم نے فرائض تو چھوڑے

مگر ترکِ الفت گوارا نہیں ہے

Saturday, 2 October 2021

کچھ تعلق مخلصانہ چاہیے

 کچھ تعلق مخلصانہ چاہیۓ

بات کا کوئی بہانہ چاہیۓ

ہم ہیں بنجارے محل سے کیا غرض

کوئی ٹوٹا آشیانہ چاہیۓ

بعد مرنے کے مثالیں دے جہاں

یوں محبت کو نبھانا چاہیۓ

Friday, 1 October 2021

پیغام دے رہے ہیں خدا کا غدیر میں

 پیغام دے رہے ہیں خدا کا غدیر میں

مولا کا ہاتھ تھام کے مولا غدیر میں

پہنچی صدائے نامِ علی عرش سے پرے

مولا کا نام اس طرح گونجا غدیر میں

ہے بعد میرے کون سہارا بتا دیا

میرے نبیؐ نے راز یہ کھولا غدیر میں

Wednesday, 29 September 2021

مرے آقا مرے سلطان بسم اللہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 مِرے آقا مِرے سلطان، بسم اللہ 

مِری جاں آپؐ پر قربان بسم اللہ 

رسائی رب تلک جن سے ہوئی ممکن 

میں ان کی لکھ رہا ہوں شان بسم اللہ 

کیا ہے نعت میں بھی حمد کا چرچا

جو رکھا نعت کا عنوان بسم اللہ

Tuesday, 28 September 2021

یہ ہجر کیا ہے وصال کیا ہے

 یہ ہجر کیا ہے وصال کیا ہے

یہ حُسن کیا ہے، جمال کیا ہے

میں کب سے بیٹھا ہوں لے کے کاسہ

کبھی تو پوچھو سوال کیا ہے

خدا کے بخشے پہ ناز کیسا 

تمہارا اس میں کمال کیا ہے

Monday, 27 September 2021

بغل یاران میں خنجر بھی تو ہو سکتا ہے

 بغلِ یاران میں خنجر بھی تو ہو سکتا ہے

یار امید سے بڑھ کر بھی تو ہو سکتا ہے

ہجر کا زخم دیا تُو نے جو میرے دل کو

زخم ایسا تِرے دل پر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ ضروری تو نہیں آنکھ سے دریا نکلے

دل میں اک غم کا سمندر بھی تو ہو سکتا ہے

دئیے ہیں زیست نے مجھ کو بڑے آلام تیرے بعد

 دئیے ہیں زیست نے مجھ کو بڑے آلام تیرے بعد

مٹا بیٹھا ہوں اپنی ذات اپنا نام تیرے بعد

تِرے نینوں ہی سے پی کر مِرا دل مست ہوتا تھا

مزہ دیتا نہیں ہے مجھ کو یارا جام تیرے بعد

تُو جانا چاہتا تھا، میں نے بھی تجھ کو نہیں روکا نا

مگر دل کی زمیں پر اک مچا کہرام تیرے بعد

Monday, 19 April 2021

کسی سے دور جانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے

 کسی سے دور جانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے

گزارے پَل بھُلانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے

جو بھٹکے راہ سے پنچھی گھنے جنگل میں آ بیٹھے

انہیں رستے پہ لانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے

مِری خاطر ہو کیوں جگتے ستارو تم تو سو جاؤ

مجھے تو نیند آنے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے