کسی سے دور جانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
گزارے پَل بھُلانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
جو بھٹکے راہ سے پنچھی گھنے جنگل میں آ بیٹھے
انہیں رستے پہ لانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
مِری خاطر ہو کیوں جگتے ستارو تم تو سو جاؤ
مجھے تو نیند آنے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
مِرے دل کے طلبگارو ذرا سا حوصلہ کرلو
دوبارہ دل لگانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
ان حسن کے اسیروں کی سزائیں لمبی ہوتی ہیں
کہ دل کے قید خانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
کبھی تو ہاتھ اُٹھتے ہی دعا مقبول ہو جائے
کبھی رب کو منانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
کبھی صدیاں گزرنے میں تو اک پَل بھی نہیں لگتا
کبھی اک پَل بِتانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
کسی کو قہقہوں سے ہی کبھی فُرصت نہیں ملتی
کسی کو مُسکرانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
لُٹا دیتے ہیں راہِ عشق میں دُنیا بھی جو اپنی
اُنہیں دُنیا بسانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
یہ پوچھو ہجر کے ماروں سے کیسے رات کٹتی ہے
سحر کے جگمگانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
یہ کاریگر بناتا ہے محل سب کے مگر اس کو
خود اپنا گھر بنانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
میں طوفانوں سے ٹکرا کر بڑی مُشکل میں ہوں باسط
کہ اب شمع جلانے میں بڑا ہی وقت لگتا ہے
باسط علی حیدری
No comments:
Post a Comment