Monday, 19 April 2021

مجھ سے وفا کے جذبوں کو مارا نہیں گیا

 مجھ سے وفا کے جذبوں کو مارا نہیں گیا

آنکھوں سے میری عکس تمہارا نہیں گیا

دھندلا گیا جو نقش نکھارا نہیں گیا

آنکھوں میں حسرتوں کو ابھارا نہیں گیا

نظروں سے تیری گر کے گوارا نہ تھی حیات

اس راستے سے خود کو گزارا نہیں گیا

دن کا قرار، نیند تو شب کی مِری لٹی

اس معرکے میں کچھ  بھی تمہارا نہیں گیا

جب سے تِرا فراق ہے اس دل میں شعلہ زن

دیوار و در کو مجھ سے سنوارا نہیں گیا

مانگی نہیں ہے میں نے کبھی بھیک میں وفا

مجھ سے کبھی ضمیر کو ہارا نہیں گیا

چھپ جائیں جس کی تہہ میں کئی بد نما نقوش

وہ رُوپ مجھ سے شہر میں دھارا نہیں گیا

زریاب پھر کسی کی تمنا نہیں رہی

پھر دل میں کوئی شخص اتارا نہیں گیا


ہاجرہ نور زریاب

No comments:

Post a Comment