Showing posts with label مزمل عباس شجر. Show all posts
Showing posts with label مزمل عباس شجر. Show all posts

Tuesday, 3 January 2023

نہ جانے کس کا ہو کے ہمسفر گیا ہو گا

 نہ جانے کس کا ہو کے ہمسفر گیا ہو گا

یہ سوچتا ہوں کہ وہ کس نگر گیا ہو گا

جفا کی تیغ کو کاٹا ہو جس نے شہ رگ سے

کمالِ اوج پہ اس کا ہی سر گیا ہو گا

کسی سخن پہ ضرورت نہیں کہ للچائیں

ہمارا کاسہ نجف میں ہی بھر گیا ہو گا

Tuesday, 30 August 2022

میں شعر کہہ سکوں مجھے اتنی مجال دے

 میں شعر کہہ سکوں مجھے اتنی مجال دے

مولا! تو میری فکر کی گدڑی کو لعل دے

اک وہ بشر ہے جس کی فرشتے کریں طلب

اک خاطرِ نصیب پرندے کو فال دے

اب دیکھ لے ہمارے نصیبِ سیاہ کو

جس پر پڑے نظر تِری اس کو اُجال دے

Thursday, 25 August 2022

منزل کو زرا جان مرے دیس کے راہی

 منزل کو زرا جان مِرے دیس کے راہی

دریا نہ بہے حد میں تو کرتا ہے تباہی

اب طے ہے کہ ہم دور رہیں زندہ رہیں گے

اب دیس میں پھیلی ہے وباؤں کی سیاہی


ابلیس کا حملہ یہ ہمیں ڈر میں ہے درپیش

اب رن میں نہیں جنگ ہمیں گھر میں ہے درپیش

Sunday, 21 August 2022

تری نگاہ جو چہرہ شناس ہو جائے

 تِری نگاہ جو چہرہ شناس ہو جائے

غمِ حیات کی تلخی مٹھاس ہو جائے

ہر ایک صبح تجھے ڈھونڈنے نکلتا ہوں

ہر ایک شام طبیعت اداس ہو جائے

میں اپنے ہونے کا احساس چاہتا ہوں اب

تِری نظر، مِرے تن کا لباس ہو جائے

Saturday, 30 April 2022

فراز دار کو ذوق جنوں تلاش کرے

 فرازِ دار کو ذوقِ جنوں تلاش کرے

یہ دل کہ تیری نظر کا فسوں تلاش کرے

سکون کے لیے پہلے نظر نظر سے ملے

نظر ملا کے یہ دل پھر سکوں تلاش کرے

کسی نے زہد کیا اور تو کوئی مست ہوا

جسے تو یوں نہیں ملتا وہ یوں تلاش کرے

Wednesday, 27 April 2022

غم ہجراں کی تمازت تجھے معلوم کہاں

 غمِ ہجراں کی تمازت تجھے معلوم کہاں

تجھ پہ گزرا ہی نہیں موسمِ ظلمات ابھی

تجھ سے بچھڑا نہیں ہے کوئی وجہِ جاں تیرا

تجھ پہ چھائی ہی نہیں دن میں صنم رات ابھی

تجھ سے ملتے ہوئے یوں تو ہوئے برسوں لیکن

تجھ سے باقی ہے مِری تھوڑی ملاقات ابھی