نہ جانے کس کا ہو کے ہمسفر گیا ہو گا
یہ سوچتا ہوں کہ وہ کس نگر گیا ہو گا
جفا کی تیغ کو کاٹا ہو جس نے شہ رگ سے
کمالِ اوج پہ اس کا ہی سر گیا ہو گا
کسی سخن پہ ضرورت نہیں کہ للچائیں
ہمارا کاسہ نجف میں ہی بھر گیا ہو گا
نہ جانے کس کا ہو کے ہمسفر گیا ہو گا
یہ سوچتا ہوں کہ وہ کس نگر گیا ہو گا
جفا کی تیغ کو کاٹا ہو جس نے شہ رگ سے
کمالِ اوج پہ اس کا ہی سر گیا ہو گا
کسی سخن پہ ضرورت نہیں کہ للچائیں
ہمارا کاسہ نجف میں ہی بھر گیا ہو گا
میں شعر کہہ سکوں مجھے اتنی مجال دے
مولا! تو میری فکر کی گدڑی کو لعل دے
اک وہ بشر ہے جس کی فرشتے کریں طلب
اک خاطرِ نصیب پرندے کو فال دے
اب دیکھ لے ہمارے نصیبِ سیاہ کو
جس پر پڑے نظر تِری اس کو اُجال دے
منزل کو زرا جان مِرے دیس کے راہی
دریا نہ بہے حد میں تو کرتا ہے تباہی
اب طے ہے کہ ہم دور رہیں زندہ رہیں گے
اب دیس میں پھیلی ہے وباؤں کی سیاہی
ابلیس کا حملہ یہ ہمیں ڈر میں ہے درپیش
اب رن میں نہیں جنگ ہمیں گھر میں ہے درپیش
تِری نگاہ جو چہرہ شناس ہو جائے
غمِ حیات کی تلخی مٹھاس ہو جائے
ہر ایک صبح تجھے ڈھونڈنے نکلتا ہوں
ہر ایک شام طبیعت اداس ہو جائے
میں اپنے ہونے کا احساس چاہتا ہوں اب
تِری نظر، مِرے تن کا لباس ہو جائے
فرازِ دار کو ذوقِ جنوں تلاش کرے
یہ دل کہ تیری نظر کا فسوں تلاش کرے
سکون کے لیے پہلے نظر نظر سے ملے
نظر ملا کے یہ دل پھر سکوں تلاش کرے
کسی نے زہد کیا اور تو کوئی مست ہوا
جسے تو یوں نہیں ملتا وہ یوں تلاش کرے
غمِ ہجراں کی تمازت تجھے معلوم کہاں
تجھ پہ گزرا ہی نہیں موسمِ ظلمات ابھی
تجھ سے بچھڑا نہیں ہے کوئی وجہِ جاں تیرا
تجھ پہ چھائی ہی نہیں دن میں صنم رات ابھی
تجھ سے ملتے ہوئے یوں تو ہوئے برسوں لیکن
تجھ سے باقی ہے مِری تھوڑی ملاقات ابھی