Showing posts with label مظفر ابدالی. Show all posts
Showing posts with label مظفر ابدالی. Show all posts

Saturday, 9 April 2022

کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا

 کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا

کون کر سکتا ہے یہ قصہ بیاں میرے سوا

کس کو معلوم ہے صحرا کی ہواؤں کا مزاج

ریت پر کون بنائے گا مکاں میرے سوا

سب فقیرانِ شبِ ہجر وطن چھوڑ گئے

کون اب دے گا بیاباں میں اذاں میرے سوا

Thursday, 3 September 2020

محفل میں امیدوں کا گزر ہے بھی نہیں بھی

محفل میں امیدوں کا گزر ہے بھی نہیں بھی
دھرتی پہ ستاروں کی نظر ہے بھی نہیں بھی
اک بات ابھی رات کے پردے میں پڑی ہے
اک شخص طلبگار سحر ہے بھی نہیں بھی
اک آگ جلی رہتی ہے اک آگ بجھی سی
یارو مِرے سینے میں جگر ہے بھی نہیں بھی

بند کمرے کے سبھی کردار چپ تھے

آئینہ

بند کمرے کے سبھی کردار چپ تھے
اک پرانی میز تھی دو کرسیاں تھیں
جن پہ کچھ بوسیدہ کاغذ رہ گئے تھے
آتے جاتے موسموں کا عینی شاہد
کھردری دیوار پر اک آئینہ تھا
آئینے کے سامنے کچھ دیر تھا میں
آئینہ مجھ پر ہنسا، میں آئینے پر

Wednesday, 2 September 2020

ریت پر اک نشان ہے شاید

ریت پر اک نشان ہے شاید 
یہ ہمارا مکان ہے شاید 
شور کے بیچ سو رہی ہے زمیں 
مدتوں کی تھکان ہے شاید 
درد کا اشتہار چسپاں ہے 
زندگی کی دُکان ہے شاید 

ہونٹ کی مہر ہیں ہم پاؤں کی زنجیر ہیں ہم

ہونٹ کی مہر ہیں ہم پاؤں کی زنجیر ہیں ہم
زندگی دیکھ تِرے خواب کی تعبیر ہیں ہم
زینتِ گنبد و محراب نہ ہم روحِ کتاب
سنگِ مینار کی مٹتی ہوئی تحریر ہیں ہم
ہم شرافت ہیں، ہمیں کون سراہے گا اب
اپنے اجداد کی ہاری ہوئی جاگیر ہیں ہم

Monday, 31 August 2020

اندھیرا کروٹ بدل رہا ہے

اندھیرا کروٹ بدل رہا ہے
کہیں تو سورج نکل رہا ہے
سمٹ رہا ہے بدن میں سایہ
چراغ چپ چاپ جل رہا ہے
ڈری ڈری سی ہے کوئی خواہش
خیال کچھ کچھ سنبھل رہا ہے

رفو کریں گے گماں کا دامن ہر ایک شک کو یقیں لکھیں گے

رفو کریں گے گماں کا دامن ہر ایک شک کو یقیں لکھیں گے
جہاں جہاں پر فلک لکھا ہے وہاں وہاں ہم زمیں لکھیں گے
زمانہ تب بھی یزید کا تھا،۔ زمانہ اب بھی یزید کا ہے
پہ ہم بھی ٹھہرے حسینؑ والے نہیں لکھا تھا نہیں لکھیں گے
تِری گلی سے گزر رہے تھے تو دل میں کیا کیا نہ بات آئی
کبھی یہ سوچا کہاں لکھیں گے کبھی یہ سوچا یہیں لکھیں گے

دل پہ یادوں کی ہے قائم حکمرانی ان دنوں

دل پہ یادوں کی ہے قائم حکمرانی ان دنوں
خود پہ نازاں ہے کھنڈر کی ہر نشانی ان دنوں
عاشقی نے لکھ دیا ہے سارا صحرا میرے نام
ہے جنوں کی خوب مجھ پر مہربانی ان دنوں
موسموں نے کر دیا ہے سارے زخموں کو ہرا
بڑھ گئی ہے غمکدے کی شادمانی ان دنوں

Saturday, 1 October 2016

کہیں پہ یاد جواں ہے، کہیں نہیں بھی ہے

کہیں پہ یاد جواں ہے، کہیں نہیں بھی ہے
کہیں پہ رقص میں جاں ہے، کہیں نہیں بھی ہے
یہ ساری راکھ، کبھی بستیاں رہی ہوں گی
کہیں کہیں پہ نشاں ہے، کہیں نہیں بھی ہے
تپش بڑھی تو ندی بھی سِمٹ گئی جیسے
کہیں پہ آب رواں ہے، کہیں نہیں بھی ہے

ذرا سی آنکھ لگی تھی کہ خواب جاگ گئے

ذرا سی آنکھ لگی تھی کہ خواب جاگ گئے
نشیلی رات میں خانہ خراب جاگ گئے
نگاہِ ناز، مِری سمت اٹھ گئی تھی ذرا
ہتھیلیوں پہ مِری ماہتاب جاگ گئے
نکلتی جاتی ہے تصویر آئینے سے کئی
مجھ ہی میں جیسے کئی انقلاب جاگ گئے

بیاباں کو پشیمانی بہت ہے

بیاباں کو پشیمانی بہت ہے
کہ شہروں میں بیابانی بہت ہے
مِرے ہنسنے پہ دنیا چونک اٹھی
مجھے بھی خود پہ حیرانی بہت ہے
چلو صحرا کو بھی اب آزمائیں
سنا تھا گھر میں آسانی بہت ہے