Showing posts with label حفیظ ہوشیار پوری. Show all posts
Showing posts with label حفیظ ہوشیار پوری. Show all posts

Tuesday, 22 September 2020

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے

 پھر سے آرائشِ ہستی کے جو ساماں ہوں گے

تیرے جلووں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے

عشق کی منزلِ اول پہ ٹھہرنے والو

اس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے

تو جہاں جائے گی غارت گرِ ہستی بن کر

ہم بھی اب ساتھ تِرے گردشِ دوراں ہوں گے

Friday, 2 December 2016

مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ

مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ
وہی آہِ صبح گاہی،۔۔ وہی گریۂ شبانہ
تب و تاب یک نفس تھا، غمِ مستعارِ ہستی
غمِ عشق نے عطا کی مجھے عمرِ جاودانہ
کوئی بات ہے ستمگر کہ میں جی رہا ہوں اب تک
تِری یاد بن گئی ہے،۔ مِری زیست کا بہانہ

تو وہ عہد رفتہ کی یاد ہے کہ نہ جس کو دل سے بھلا سکوں

تُو وہ عہدِ رفتہ کی یاد ہے کہ نہ جس کو دل سے بھُلا سکوں
میں وہ بھُولا بِسرا سا خواب ہوں، کہ کسی کو یاد نہ آ سکوں
کوئی پوچھتا ہے جو حالِ دل تو میں سوچتا ہوں کہ کیا کہوں
تِرا احترام ہے اس قدر،۔ کہ زبان تک نہ ہلا سکوں
یہ تِری جفا کی ہے انتہا، کہ تُو مجھ کو یاد نہ کر سکے
یہ مِری وفا کا کمال ہے کہ نہ تجھ کو دل سے بھُلا سکوں

غم دینے والا شاد رہے پہلو میں ہجوم غم ہی سہی

غم دینے والا شاد رہے، پہلو میں ہجومِ غم ہی سہی
لب ان کے تبسم ریز رہیں، آنکھیں میری پُرنم ہی سہی
گر جذبِ عشق سلامت ہے، یہ فرق بھی مٹنے والا ہے
وہ حسن کی اک دنیا ہی سہی، میں حیرت کا عالم ہی سہی
ان مست نگاہوں کے آگے، پینے کا ذکر نہ کر ساقی
مۓ خانہ تِرا جنت ہی سہی، پیمانہ جامِ جم ہی سہی

Saturday, 23 April 2016

راز سربستہ محبت کے زباں تک پہنچے

راز سربستہ محبت کے، زباں تک پہنچے 
بات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچے 
کیا تصرف ہے تِرے حسن کا، اللہ، الله 
جلوے آنکھوں سے، اتر کر دل و جاں تک پہنچے
تیری منزل پہ پہنچنا کوئی آسان نہ تھا 
سرحدِ عقل سے گزرے تو یہاں تک پنچے 

غم سے گر آزاد کرو گے

غم سے گر آزاد کرو گے
اور مجھے ناشاد کرو گے
تم سے، اور امید وفا کی
تم، اورمجھ کو یاد کرو گے
وِیراں ہے آغوشِ محبت
کب اس کو آباد کرو گے

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے

پھر سے آرائشِ ہستی کے جو ساماں ہوں گے 
تیرے جلووں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے 
عشق کی منزلِ اوّل پہ ٹھہرنے والو 
اس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے
تُو جہاں جائے گی غارت گرِ ہستی بن کر 
ہم بھی اب ساتھ تِرے گردشِ دوراں ہوں گے 

تغافل کا کروں ان سے گلہ کیا​

تغافل کا کروں ان سے گِلہ کیا​
وہ کیا جانیں جفا کیا ہے وفا کیا
محبت میں تمیزِ دشمن و دوست
یہاں نا آشنا کیا، آشنا کیا​
زمانے بھر سے میں‌ کھو گیا ہوں​
تمہیں پا کر مجھے آخر مِلا کیا ​

Saturday, 8 November 2014

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے​
میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے​
ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے
ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے​

پھر سے آرائشِ ہستی کے جو ساماں ہوں گے

پھر سے آرائشِ ہستی کے جو ساماں ہوں گے
تیرے جلووں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے
عشق کی منزلِ اول پہ ٹھہرنے والو
اس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے
تُو جہاں جائے گی غارت گرِ ہستی بن کر
ہم بھی اب ساتھ تِرے گردشِ دوراں ہوں گے

وہ آ کے سامنے جس وقت مسکراتے ہیں​

وہ آ کے سامنے جس وقت مسکراتے ہیں​
ہم ان کی ساری جفاؤں کو بھول جاتے ہیں​
جفا پہ ان کی وفا کا گماں گزرتا ہے​
کچھ اس طرح وہ مِرے دل کو یاد آتے ہیں​
جفائے طعنۂ اغیار، یاد رہتی ہے​
غمِ فراق کے صدمے تو بھول جاتے ہیں​